صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 716 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 716

صحيح البخاری جلدم 217 ۵۲ - كتاب الشهادات مؤذن کو سننے سے ہوتا ہے۔خرید و فروخت کے متعلق بھی نابینا کی شہادت قبول ہے کہ فلاں شے کے سودے میں فلاں فلاں بات طے پائی تھی۔وعلی ھذا القیاس نکاح میں بھی خواہ غیر کا ہو خواہ اس کا اپنا۔ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سماعیات میں نابینا کی شہادت شرائط عدالت کے اعتبار سے قابل قبول نہیں۔فقہاء کے اس مسئلہ میں مختلف نظریئے ہیں۔بعض تو مطلق جواز کے حق میں ہیں اور بعض علی الاطلاق خلاف ہیں۔بعض نے کہا ہے کہ ایسی مسموعات جو صرف سماع سے ہی مخصوص ہیں، ان میں سماعی شہادت جائز ہے اور بعض نے اس میں یہ شرط عائد کی ہے کہ بینائی کھونے سے پہلے جن باتوں کا علم آنکھ ، کان وغیرہ سے ہو چکا ہو ان میں نابینا کی شہادت قابل قبول ہے۔جیسا کہ حضرت ابن عباس جو ایک ذ کی فہیم انسان تھے بینائی جاتی رہنے کے بعد ان کی دیکھی سنی ہوئی باتوں میں شہادت قابل قبول سمجھی گئی ہے۔بعض نے محدود باتوں میں شہادت کو محدود رکھا ہے اور بعض نے صرف نسب سے متعلق شہادت کی اجازت دی ہے کہ اس کا تعلق قوت حافظہ سے ہے۔غرض یہ مختلف زاویہ ہائے نظر ہیں اور اس اختلاف میں دارالقضاء کے لئے بڑی وسعت ہے۔قاضی حالات کے مطابق ان کی تطبیق سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔کسی ایک نظریہ اور رائے سے وہ مقید نہیں۔حوالہ جات کے لئے فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۲۶، عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحه ۲۱۹ تا ۲۲۲ دیکھئے امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے مسئلہ معنونہ کے تعلق میں تین روایتیں نقل کی ہیں جن سے سماعی شہادت کے حدود کی وضاحت ہوتی ہے اور اس کو مطلق نظر انداز کرنا درست نہیں بلکہ آخری روایت سے ظاہر ہے کہ بعض اوقات نہ صرف سماع بلکہ قوت لامسہ سے وہ باتیں معلوم ہوتی ہیں جو آنکھ اور کان سے نہیں ہو سکتیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مخرمہ کو قبا دیتے ہوئے (يُرِيْهِ مَحَاسِنَهُ) اس کے علائم وغیرہ ہونے کا ذکر فرمایا جس کا تعلق مسں سے ہے اور حضرت مخرمہ کو معلوم ہو سکتا تھا۔حضرت مخرمہ سے متعلق روایت کے لئے کتاب الهبه باب ۱۹ روایت نمبر ۲۵۹۹ بھی دیکھئے۔احناف میں سے بھی فقہاء نے نابینا کی شہادت ایک حد تک قبول کی ہے۔امام بخاری جمہور کے مذہب کی تائید میں ہیں۔یعنی ان امور میں جن کا تعلق سماع سے ہے، نابینا کی شہادت قابل قبول ہے بشرطیکہ وہ صفات عدل سے متصف ہو۔بَاب ۱۲ : شَهَادَةُ النِّسَاءِ عورتوں کی گواہی وَقَوْلُهُ تَعَالَى: فَاِنْ لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور فَرَجُلٌ وَامْرَأَتُنِ (البقرة: ۲۸۳) دو عورتیں۔٢٦٥٨: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۲۶۵۸ (سعید) بن ابی مریم نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي کیا کہ محمد بن جعفر نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے کہا: