صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 715
صحيح البخاري - جلدم ۷۱۵ ۵۲ - كتاب الشهادات تَسْمَعُوْا أَذَانَ ابْنِ أُمّ مَكْتُوْمِ وَكَانَ یہاں تک کہ تم ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔اور ابْنُ أُم مَكْتُوْمٍ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُؤَذِّنُ حضرت ابن ام مکتوم نابینا شخص تھے وہ اذان نہیں حَتَّى يَقُولَ لَهُ النَّاسُ : أَصْبَحْتَ۔دیا کرتے تھے جب تک کہ لوگ ان کو نہ کہتے کہ صبح ہوگئی ہے۔اطرافه: ٦١٧ ، ٦٢٠ ٦٢٣، ۱۹۱۸، ۷۲۸- ٢٦٥٧ : حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى :۲۶۵۷ زیاد بن سکی نے ہمیں بتایا۔حاتم بن حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وردان نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیاتی) نے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن أَبِي مُلَيْكَةَ عَن ہمیں بتایا۔انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عبداللہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے قَالَ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی ، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَحْرَمَةُ پاس کچھ قبائیں آئیں تو میرے باپ مخرمہ نے مجھے انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا سے کہا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس شَيْئًا۔فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ میرے ساتھ چلو، اُمید ہے کہ آپ ان میں سے ہمیں فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھی دیں گے۔میرے باپ دروازے پر کھڑے ہو صَوْتَهُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گئے اور باتیں کرنے لگے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ وَمَعَهُ قَبَاءً وَهُوَ يُرِيْهِ مَحَاسِنَهُ ان کی آواز پہچانی اور باہر نکلے۔آپ کے پاس ایک وَهُوَ يَقُولُ: خَبَاتُ هَذَا لَكَ حَبَاتُ قاتی۔آپ ان کو اس قبا کی خوبیاں دکھانے لگے اور آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ یہ میں نے تمہارے لئے چھپارکھی تھی۔یہ میں نے تمہارے لیے چھپارکھی تھی۔هَذَا لَكَ۔اطرافه: ۲۵۹۹، ۳۱۲۷، ۵۸۰۰، ۶۱۳۲ تشریح : شَهَادَةُ الْأَعْمَى وَآمُرُهُ: یہ باب ایسی شہادت کے بارے میں ہے جس کا تعلق سماعی باتوں سے ہے۔عنوان باب میں قاسم بن محمد بن ابو بکر، حسن بصری، ابن سیرین، زہری اور عطاء بن ابی رہائی کے فتاویٰ کا حوالہ دیا گیا ہے۔قاسم رحمتہ اللہ علیہ مدینہ کے فقہاء سبعہ میں سے ہیں اور باقی بھی مشہور و معروف فقیہ ہیں اور سب فتاوی کا تعلق صرف ایسے امور میں شہادت دینے سے ہے جو قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔مثلاً اوقات اذان کا علم نابینا