صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 715 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 715

صحيح البخاری جلد ۴ ۷۱۵ ۵۲ - كتاب الشهادات تَسْمَعُوْا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُوْمٍ - وَكَانَ یہاں تک کہ تم ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔ اور ابْنُ أُمِّ مَكْتُوْمٍ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُؤَذِّنُ حضرت ابن ام مکتوم نا بینا شخص تھے وہ اذان نہیں حَتَّى يَقُولَ لَهُ النَّاسُ : أَصْبَحْتَ۔ دیا کرتے تھے جب تک کہ لوگ ان کو نہ کہتے کہ صبح ہوگئی ہے۔ اطرافه ٦١٧ ، ٦٢٠، ٦٢٣، 1918، ٧٢٤٨۔ ٢٦٥٧: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى :۲۶۵۷ زياد بن یحی نے ہمیں بتایا۔ حاتم بن حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وردان نے ہم سے بیان کیا کہ ایوب (سختیاتی ) نے عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عبد اللہ نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے قَالَ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وسلم کے وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ : پاس کچھ قبائیں آئیں تو میرے باپ مخرمہ نے مجھ انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِينَا مِنْهَا سے کہا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس شَيْئًا۔ فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ میرے ساتھ چلو، اُمید ہے کہ آپ ان میں سے ہمیں فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھی دیں گے۔ میرے باپ دروازے پر کھڑے ہو صَوْتَهُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گئے اور باتیں کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ وَمَعَهُ قَبَاءً وَهُوَ يُرِيْهِ مَحَاسِنَهُ ان کی آواز پہچانی اور باہر نکلے۔ آپ کے پاس ایک وَهُوَ يَقُولُ: حَبَأْتُ هَذَا لَكَ حَبَاتُ قبا تھی ۔ آپ ان کو اس قبا کی خوبیاں دکھانے لگے اور آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ یہ میں نے تمہارے لئے چھپا رکھی تھی۔ یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔ هَذَا لَكَ۔ اطرافه: ۲۵۹۹ ، ۳۱۲۷، 5800، ٦١٣٢۔ تشريح : شَهَادَةُ الْأَعْمَى وَأَمُرُهُ: یہ باب ایسی شہادت کے بارے میں ہے جس کا تعلق ہائی سماعی باتوں سے en ہے۔ عنوان باب میں قاسم بن محمد بن ابوبکر، حسن بصری، ابن سیرین، زہری اور عطاء بن ابی رباح کے فتاوی کا حوالہ دیا گیا ہے۔ قاسم رحمۃ اللہ علیہ مدینہ کے فقہاء سبعہ میں سے ہیں اور باقی بھی مشہور و معروف فقیہ ہیں اور سب فتاوی کا تعلق صرف ایسے امور میں شہادت دینے سے ہے جو قانون سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً اوقات اذان کا علم نابینا