صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 713 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 713

صحيح البخاری جلدم ۱۳ ۵۲ - كتاب الشهادات بَاب ۱۱ : شَهَادَةُ الْأَعْمَى وَأَمْرُهُ نابینا کی شہادت اور اس کے معاملات بِالْأَصْوَاتِ۔وَأَجَازَ شَهَادَتَهُ قَاسِمٌ وَالْحَسَنُ وَابْنُ سِيْرِيْنَ وَالزُّهْرِيُّ وَنِكَاحُهُ وَإِنْكَاحُهُ وَمُبَايَعَتُهُ وَقَبُولُهُ اور اس کا اپنا نکاح کرنا اور دوسرے کا نکاح کرانا اور فِي التَّأْذِيْنِ وَغَيْرِهِ وَمَا يُعْرَفُ اس کا خرید و فروخت کرنا اور اس کا اذان دینا وغیرہ قبول کرنا اور اس کی شہادت ان باتوں میں جو آوازوں سے پہچانی جاتی ہیں۔اور قاسم ( بن محمد بن ابی بکر الصدیق ) اور حسن ( بصری ) اور ( محمد ) بن سیرین اور ( محمد بن مسلم ) وَعَطَاء وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: تَجُوزُ زہری اور عطاء ( بن ابی رباح ) نے اس کی شہادت شَهَادَتُهُ إِذَا كَانَ عَاقِلًا وَقَالَ جائز قرار دی ہے۔اور شعبی ( عامر بن شراحیل) نے الْحَكَمُ رُبَّ شَيْءٍ تَجُوزُ فِيْهِ۔وَقَالَ کہا: اس کی شہادت درست ہے، بشرطیکہ عاقل ہو۔الزُّهْرِيُّ: أَرَأَيْتَ ابْنَ عَبَّاسِ لَوْ شَهِدَ اور حکم نے کہا: کئی باتیں ایسی ہیں کہ جن میں نابینا کی عَلَى شَهَادَةٍ أَكُنْتَ تَرُدُّهُ ؟ وَكَانَ شہادت جائز ہوگی۔اور زہری نے کہا: بھلا بتلاؤ کہ ابْنُ عَبَّاسِ يَبْعَثُ رَجُلًا إِذَا حضرت (عبد اللہ ) بن عباس اگر کوئی شہادت دیں کیا غَابَتِ تم ان کی شہادت رڈ کر دو گے؟ اور حضرت ابن عباس الشَّمْسُ أَفْطَرَ وَيَسْأَلُ عَنِ الْفَجْرِ ایک آدمی کو بھیجتے جب وہ کہتا سورج غروب ہو گیا ہے فَإِذَا قِيْلَ لَهُ طَلَعَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔وَقَالَ تو افطار کرتے اور وہ پو پھٹنے سے متعلق پوچھتے : جب سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارِ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَی انہیں کہا جاتا کہ پو پھوٹ گئی ہے تو دو رکعتیں پڑھتے۔عَائِشَةَ فَعَرَفَتْ صَوْتِي قَالَتْ : اور سلیمان بن یسار کہتے تھے : میں نے حضرت عائشہ سُلَيْمَانُ ادْخُلْ فَإِنَّكَ مَمْلُوكَ مَا کے پاس اندر جانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے بَقِيَ عَلَيْكَ شَيْءٌ، وَأَجَازَ سَمُرَةُ بْنُ میری آواز پہچان لی۔انہوں نے پوچھا: سلیمان ہے جُنْدَبِ شَهَادَةَ امْرَأَةٍ مُنْتَقِبَةٍ۔اندر آ جاؤ، کیونکہ ابھی غلام ہی ہو جب تک تمہارے ذمہ کچھ باقی ہے۔اور حضرت سمرہ بن جندب نے نقاب پہنے ہوئے عورت کی شہادت کو جائز قرار دیا ہے۔