صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 713
صحيح البخاری جلد ۴ ۷۱۳ ۵۲ - كتاب الشهادات باب ۱۱ : شَهَادَةُ الْأَعْمَى وَأَمْرُهُ نابینا کی شہادت اور اس کے معاملات وَنِكَاحُهُ وَإِنْكَاحُهُ وَمُبَايَعَتُهُ وَ قَبُولُهُ اور اس کا اپنا نکاح کرنا اور دوسرے کا نکاح کرانا اور فِي التَّأْذِيْنِ وَغَيْرِهِ۔ وَمَا يُعْرَفُ اِس کا خرید و فروخت کرنا اور اس کا اذان دینا وغیرہ قبول بِالْأَصْوَاتِ۔ وَأَجَازَ شَهَادَتَهُ قَاسِم کرنا اور اس کی شہادت ان باتوں میں جو آوازوں سے وَالْحَسَنُ وَابْنُ سِيرِينَ وَالزُّهْرِيُّ پہچانی جاتی ہیں۔ ن جاتی ہیں۔ اور قاسم ( بن محمد بن ابی بکر الصديق اور حسن (بصری) اور ( محمد ) بن سیرین اور (محمد بن اور ( محمد بن مسلم ) وَعَطَاءٌ وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: تَجُوزُ زہری اور عطاء ( بن ابی رباح ) نے اس کی شہادت شَهَادَتُهُ إِذَا كَانَ عَاقِلًا۔ وَقَالَ جائز قرار دی ہے۔ اور شعبی (عامر بن شراحیل) نے الْحَكَمُ: رُبَّ شَيْءٍ تَجُوْزُ فِيْهِ۔ وَقَالَ کہا: اس کی شہادت درست ہے، بشرطیکہ عاقل ہو۔ الزُّهْرِيُّ: أَرَأَيْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ لَوْ شَهِدَ اور حکم نے کہا کی باتیں ایسی ہیں کہ جن میں نابینا کی عَلَى شَهَادَةٍ أَكُنْتَ تَرُدُّهُ ؟ وَكَانَ شہادت جائز ہوگی۔ اور زہری نے ابْنُ عَبَّاسٍ يَبْعَثُ رَجُلًا إِذَا غَابَتِ حضرت عبداللہ بن عباس اگر کوئی شہادت و دیں کیا نے کہا: بھلا بتلاؤ کہ تم ان کی شہادت رد کر دو گے؟ اور حضرت ابن عباس الشَّمْسُ أَفْطَرَ وَيَسْأَلُ عَنِ الْفَجْرِ ایک آدمی کو بھیجے جب وہ کہتا وہ کہتا سورج غروب ہو گیا ہے فَإِذَا قِيلَ لَهُ طَلَعَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔ وَقَالَ تو افطار کرتے اور وہ پو پھٹنے سے متعلق پوچھتے: پوچھتے : جب * سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ : اسْتَأْذَنْتُ عَلَی انہیں کہا جاتا کہ پو پھوٹ گئی ہے تو دو رکعتیں پڑھتے ۔ عَائِشَةَ فَعَرَفَتْ صَوْتِي قَالَتْ : اور سلیمان بن یسار کہتے تھے: میں نے حضرت عائشہ سُلَيْمَانُ ادْخُلْ فَإِنَّكَ مَمْلُوكٌ مَا کے پاس اندر جانے کی اجازت مانگی تو انہوں نے بَقِيَ عَلَيْكَ شَيْءٌ، وَأَجَازَ سَمُرَةُ بْنُ میری آواز پہچان لی۔ انہوں نے پوچھا: سلیمان ہے اندر آ جاؤ، کیونکہ ابھی غلام ہی ہو جب تک تمہارے جُنْدُبٍ شَهَادَةَ امْرَأَةٍ مُنْتَقِبَةٍ۔ ذمہ کچھ باقی ہے۔ اور حضرت سمرہ بن جندب نے نقاب پہنے ہوئے عورت کی شہادت کو جائز قرار دیا ہے۔