صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 712 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 712

صحيح البخاری جلدم ۵۲ - كتاب الشهادات تشریح : مَا قِيلَ فِي شَهَادَةِ الزُّوْرِ: لفظ زُورٌ کے لغوی معنی ہیں: تَحْسِيْنُ الشَّيْءِ وَوَصْفُهُ بِخِلَافِ صِفَتِهِ۔یعنی بات کو خوبصورت کر کے ایسی حالت میں پیش کرنا جو اصلی حالت کے خلاف ہو۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۲۲) قرآن مجید کی جس آیت کا حوالہ عنوان باب میں دیا گیا ہے، وہ یہ ہے: وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الرُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا۔(الفرقان: ۷۳) یعنی عباد الرحمن خلاف واقعہ گواہی نہیں دیتے اور جب لغویات کے قریب سے گزریں تو وہ باوقار گزرتے ہیں۔یعنی اس میں شامل نہیں ہوتے۔عبادالرحمن کے اخلاق واوصاف کے تعلق میں ان کا یہ وصف بھی بیان ہوا ہے: لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ کہ وہ ایسے باوقار لوگ ہیں کہ جھوٹی باتوں سے مجتنب اور لغویات سے کنارہ کش رہتے ہیں اور انہیں اپنی عزت و آبرو محفوظ رکھنے کا پورا پورا احساس ہے۔ط اخفائے حق بھی گناہ ہے۔جس کی ممانعت قرآن مجید میں ان الفاظ میں وارد ہوئی ہے: وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ وَمَنْ يَكْتُمُهَا فَإِنَّهُ أثمٌ قَلْبُهُ وَاللهُ بمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ (البقرۃ: ۲۸۴) اور شہادت نہ چھپاؤ اور جوا سے چھپائے گا وہ یقینا دل کا گنہ گار ہے اور اللہ تمہارے باطن کا واقف حال ہے۔تیسری آیت جس کا عنوان باب میں حوالہ دیا گیا ہے یہ ہے: فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى اَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ه (النساء : ۱۳۶) یعنی خواہشات کی پیروی نہ کرو تا عدل کر سکو اور اگر تم (کسی شہادت میں لگی لپٹی بات کرو گے اور شہادت سے پہلو تہی کرو گے تو اللہ یقیناً تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے۔سورۃ البقرۃ اور سورۃ النساء کی یہ دونوں آیات ابتداء کتاب الشهادات میں گزر چکی ہیں اور اب اسلامی تعلیم کے پہلو پیش کر کے قرآن مجید کا کامل ہدایت ہونا نمایاں کیا گیا ہے۔مندرجہ بالا دونوں روایتوں سے ظاہر ہے کہ جھوٹی شہادت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔مذکورہ بالا روایات کی سندیں متعدد حوالوں سے مضبوط ثابت کی گئی ہیں۔امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ شارحین نے صراحت کی ہے کہ اکبر الکبائر سے یہ مراد نہیں کہ صرف یہی چار باتیں گناہ کبیرہ ہیں بلکہ اور بھی ایسے امور ہیں جن میں سے ( السَّبُعُ المُوبِقَاتِ ) سات ہلاک کرنے والی باتیں وہ بھی ہیں جو حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہیں۔دیکھئے کتاب الوصايا باب ۲۳ روایت نمبر ۲۷۶۶۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۲۳) (عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحه ۲۱۶، ۲۱۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت الزور کو بار بار دہرایا ہے کیونکہ عام طور پر جھوٹ سے متعلق بہت سہل انگاری سے کام لیا گیا ہے۔