صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 709
صحيح البخاري - جلدم 2+9 ۵۲ - كتاب الشهادات النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : تم میں سب سے قَرْنِي ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ اچھے وہ لوگ ہیں جو میرے زمانے کے ہیں۔پھر وہ يَلُوْنَهُمْ - قَالَ عِمْرَانُ: لَا أَدْرِي أَذَكَرَ لوگ جو اُن کے بعد ہیں۔پھر وہ جو اُن کے بعد ہوں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ قَرْنَيْنِ گے۔عمران کہتے تھے: میں نہیں جانتا کہ نبی صلی اللہ أَوْ ثَلَاثَةٌ- قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے اس کے بعد دو زمانوں کا ذکر کیا یا تین وَسَلَّمَ: إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا يَحُوْنُوْنَ وَلَا مَا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بعد ایسے لوگ ہوں گے جو خیانتیں کریں گے اور ان پر اعتبار نہیں کیا جائے گا اور وہ خود بخود گواہی دیں گے حالانکہ ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی اور نذر مانیں گے اور پوری نہ کریں گے اور موٹا پا انہیں خوب ہوگا۔يُؤْتَمَنُوْنَ وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَنْذِرُونَ وَلَا يَفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ۔اطرافه: ٣٦٥٠، ٦٤٢٨، ٦٦٩٥۔٢٦٥٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيْرِ :۲۶۵۲ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے، منصور نے إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَبِيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی ) سے، عبیدہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ کہ آپ نے فرمایا: سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جو الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ میرے زمانہ کے ہیں۔پھر وہ جو اس کے بعد ہیں۔يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ پھر وہ جو اُن کے بعد ہوں گے۔پھر ایسے لوگ آئیں يَمِيْنَهُ وَيَمِيْنُهُ شَهَادَتَهُ۔قَالَ إِبْرَاهِيمُ: گے کہ ان میں سے ایک گے کہ ان میں سے ایک حلفیہ شہادت سے پہلے ہی وَكَانُوْا يَضْرِبُوْنَنَا عَلَى الشَّهَادَةِ شہادت دینے لگے گا بحالیکہ دیکھا کچھ بھی نہیں ہوگا اور قسم طلب کئے جانے پر فورا قسم کھالے گا۔ابراہیم (شخصی) نے کہا: ہم تو (بچپن میں) گواہ بننے اور قول و پیمان کرنے کی وجہ سے پیٹے جاتے تھے۔وَالْعَهْدِ۔اطرافه: ٣٦٥١ ٦٤٢٩ ٠٦٦٥٨