صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 707 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 707

صحيح البخاری جلد ۴ 6۔6 ۵۲ - كتاب الشهادات کے تعلق میں جائز نہیں۔علامہ عینی نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ نکاح اور رویت ہلال کا معاملہ جدا نوعیت کا ہے۔اس میں شہرت درکار ہے۔لیکن عدالت کا جب معاملہ ہو تو صورت بدل جاتی ہے اور صرف امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہی کی رائے نہیں بلکہ ان سے قبل حضرت ابن عباس بھی یہی فتویٰ دے چکے ہیں۔جیسا کہ امام ابن حزم نے معتبر سند سے ان کا فتویٰ نقل کیا ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحہ ۲۱۰،۲۰۹) در اصل دونوں فتوے ہی حالات کے ماتحت قابل عمل ہیں۔بعض اوقات شہادت کی کمی قاذف کی شہادت سے پوری کی جاسکتی ہے۔اسلامی فقہ میں جو وسعت نظر ہے وہ اسی لئے قابل قدر ہے کہ دارالقضاء کسی ایک فتوے سے جکڑ نہیں دیا گیا۔قاضی بوقت تحقیق حق و باطل کی نسبت بہتر رائے قائم کر سکتا ہے۔امام ابو حنیفہ کا مذہب تو عدالت کی شرائط کا منشاء پورا کرتا ہے اور دوسرے نقطہ ہائے نظر سہولت و وسعت کا پہلو لئے ہوئے ہیں۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس باب کے تحت صرف دو روایتیں نقل کی ہیں۔ایک روایت سارقہ سزا یافتہ کی تو بہ اور اس کے صالحہ ہو جانے کے متعلق ہے اور دوسری کا سزا یافتہ زانی شخص کے ایک سال کے لئے شہر بدر ہونے سے۔فقہاء نے سزا یافتہ کی تو بہ سے متعلق یقین حاصل کرنے کے لئے مدت کا سوال بھی اٹھایا ہے جو بعض فقہاء کے نزدیک ایک سال ہے۔امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کا خیال ہے کہ اس تعلق میں دوسری روایت نقل کی گئی ہے۔(فتح الباری جز ۵۰ صفحہ ۳۱۸) وَإِن اسْتَقْضِيَ الْمَحْدُودُ فَقَضَايَاهُ جَائِزَةٌ : عنوان باب میں بعض فقرے قابل تشریح ہیں۔اس فقرہ کا تعلق سفیان ثوری کے فتویٰ سے ہے۔ان کے نزدیک تائب سزا یافتہ کی شہادت تو قبول نہیں ہوتی۔لیکن اگر ایسا شخص حکومت کی طرف سے قاضی بنایا جائے تو اس کے فیصلے نافذ ہوں گے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحہ ۲۱۰) وَكَيْفَ تُعرَف تَوْبَتُهُ : اس فقرے سے فقہاء کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور اکثر سلف صالح کے نزدیک جرم کا اقرار کر لینے سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ اعتراف جرم کرنے والا نادم و تا ئب ہے۔مگر امام مالک کے نزدیک آئندہ اس کے کردار صالح ہی سے علم ہوگا کہ وہ واقعی طور پر بھی تائب ہے۔محض اقرار جرم تا ئب سمجھے جانے کے لئے کافی نہیں۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۱۷) نَهَى النَّبِيُّ الا الله عَنْ كَلَامِ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ: یہ واقعہ فصل کتاب التفسير سورة البراءة زیر باب ۱۸ روایت نمبر ۷ ۴۶۷ اور کتاب المغازی زیر باب ۷۹ روایت نمبر ۴۴۱۸ دیکھئے۔امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ نے چور کی شہادت اگر وہ واقعی تو بہ کر لے، قابل قبول سمجھی ہے اور اس بارہ میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ فقہاء کا اس پر اجماع ہے جو امام ابن حجر کے نزدیک درست ہے۔امام بخاری نے اس بارہ میں سکوت کی وجہ سے ان تینوں کو ایک زمرہ میں رکھا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۱۸) فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا سے یہ تو ظاہر ہے کہ فاطمہ بنت اسود کی تو بہ نہایت اچھی تھی مگر یہ کہ وہ شہادت کے لحاظ سے کیسی سمجھی گئی ، اس بارہ میں کوئی صراحت موجود نہیں۔عمال مصنف عبد الرزاق، كتاب الطلاق، باب قوله ولا تقبلوا لهم شهادة أبدا