صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 706
صحيح البخاری جلدم 2+4 ۵۲ - كتاب الشهادات قذف، سرقہ اور زنا کو اکٹھا رکھا ہے کہ یہ بدیاں ایک ہی نوعیت یعنی خیانت کی ہیں اور خائن پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور دوسری وجہ جیسا کہ امام ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے، یہ ہے کہ بیہقی رحمہ اللہ علیہ نے بسند علی بن ابی طلحہ حضرت ابن عباس کی تفسیر کے متعلق آیت وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا نقل کر کے کہا ہے کہ اگر فاسق تو بہ کرے تو اس کی شہادت قبول ہوگی یے یہی فتویٰ جمہور کا ہے۔جسے احناف نے تسلیم نہیں کیا اور استثناء کومحدود معنوں میں لیا ہے جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے اور عنوان باب میں وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ سے احناف ہی کے مذہب کی طرف اشارہ ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۱۵، ۳۱۷) عنوان باب میں جمہور کے فتوئی کی تائید و مخالفت میں دونوں قسم کے حوالے دیئے گئے ہیں جو مختصر اذیل میں درج ہیں۔مَنْ تَابَ قَبلْتُ شَهَادَتَهُ: حضرت عمرؓ کے فتویٰ کا تعلق صرف قذف یعنی بہتان زنا سے ہے۔کیونکہ مشار الیہ واقعہ میں تہمت لگانے والوں کو موقع دیا گیا تھا اگر وہ اپنے جھوٹ کا اقرار کر لیں اور آئندہ کے لئے بہتان طرازی سے تائب ہوں تو ان کی شہادت قبول ہوگی۔یہ مشہور واقعہ ہے جس میں حضرت مغیرہ بن شعبہ امیر بصرہ پر زنا کا الزام لگایا گیا تھا اور زیاد بن عبید نے بطور گواہ سلطانی تہمت لگانے والوں کے خلاف شہادت دی اور اتہام لگانے والوں کا جھوٹ ثابت ہونے پر انہیں کوڑوں کی سزا دی گئی اور پھر تو بہ کا موقع دیئے جانے پر سوائے ابوبکرہ کے باقیوں نے سزا کے بعد اپنے جھوٹ کا اقرار کر لیا۔اس قضیہ نامرضیہ کی تحقیق کے لئے مدینہ سے حضرت ابو موسیٰ اشعری بھیجے گئے تھے اور حضرت مغیرہ بغرض تحقیق امارت سے معزول کئے گئے تھے۔امیر کے خلاف شریر طبقہ کا یہ منصوبہ تھا جیسا بعض اور امیروں کے خلاف بھی اسی قسم کی بہتان طرازی ہوئی۔(کتاب الاذان باب ۹۵ روایت نمبر ۷۵۵) حضرت عمرؓ اور جمہور کے فتویٰ کی تائید میں گیارہ فتوے نقل کئے گئے ہیں۔فتویٰ دینے والے مفتیوں میں صحابی، مشہور تابعین اور تبع تابعین مدنی اور فقہائے شام و کوفہ و بصرہ شامل ہیں۔ان میں امام شعبی کا فتوی طبری نے اور طاؤس اور مجاہد کا فتویٰ سعید بن منصور نے نقل کیا ہے۔حضرت عمر بن عبد العزیز کا فتویٰ طبری کے اور عبد الرزاق سے نے نقل کیا ہے۔معاویہ بن قرچ قاضی بصرہ اور تابعی ہیں۔مشار الیہ اقوال کی تفصیل کے لئے فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۱۶، ۳۱۷ نیز عمدة القاری جزء ۱۳۰ صفحہ ۲۰۸ تا ۲۱ دیکھئے۔مذکورہ بالا فتوے کے مقابل احناف کا فتویٰ ہے کہ قاذف کی شہادت تو بہ کے باوجود بھی قبول نہ کیا جائے۔علامہ شریح قاضی کو فہ کا عمل اسی فتوے کے مطابق تھا جیسا کہ اس بارے میں ان کا مذہب نقل کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۱۷) عنوان باب میں احناف کے نقطہ نظر پر بعض اعتراضات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔جن میں سے ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ ان کے فتوے میں تناقض ہے کہ تائب سزا یافتہ کی شہادت بعض صورتوں میں تو جائز ہوتی ہے مگر اس کی شہادت قذف سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الشهادات، باب شهادة القاذف، جزء ۱۰ صفحه ۱۵۳) (جامع البيان في تأويل القرآن للطبري، تفسير سورة النور، آیت (۵) (مصنف عبد الرزاق كتاب الشهادات، باب شهادة القاذف جزء ۸ صفحه ۳۶۱)