صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 705
صحيح البخاری جلد ۴ ۷۰۵ ۵۲ - كتاب الشهادات ٢٦٤٩: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۲۶۴۹: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبداللہ سے، عبید اللہ نے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ سے، حضرت زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ روایت کی کہ آپ نے اس شخص کو سو کوڑے لگائے او أَمَرَ فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنُ بِجَلْدِ مِائَةٍ ایک سال جلا وطن کئے جانے کا حکم دیا جس نے زنا کیا وَتَغْرِيبِ عَامٍ۔ تھا اور وہ شادی شدہ نہ تھا۔ اطرافه: ٢٣١٤، ٢٦٩٦ ، ٢٧٢٥، ٦٦٣٤ ، ٦٨٢٨، ٦٨٣١، ٦٨٣٦، ٦٨٤٣ ، ٦٨٦٠، ۷۲۷۹ ،۷۲۵۹ ،۷۱۹۴ تشريح : شَهَادَةُ الْقَاذِفِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِی: بیسوال کہ اگر فاس فسق و فجور سے تائب ہو تو اس کی شہادت قابل قبول ہوگی یا نہیں ہوگی ؟ امام ابو حنیفہ کے نزدیک صحت شہادت کے لئے علاوہ احکام اسلام کی پابندی کے یہ دیکھ لینا بھی ضروری ہے ( اَنْ لَّا تُعْلَمَ مِنْهُ جُرْحَةً ) که خلاف ورزی شریعت سے متہم تو نہیں ہوا۔ کیونکہ تو بہ سے حدود ساقط نہیں ہوتیں اور جو سزا یافتہ ہو وہ از روئے شرائط عدالت مجروح ہے اور توبہ کرنے پر بھی بطور شاہد عادل شمار نہیں ہوگا۔ فقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ فاسق کی شہادت بموجب نص صریح وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ( النور : ۵) قابل قبول نہیں ۔ (بداية المجتهد، كتاب الاقضية الباب الثالث الفصل الأول في الشهادة ، جزء ثانی صفحه ۳۴۶) آخری حصہ آیت إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ (النور: ٦) استثناء خاص ہے۔ اس کا تعلق ساری آیت سے نہیں بلکہ اولئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سے ہے نہ کہ وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ہے۔ بہتان طرازی رازی ایک شخص کو قطعی طور پر عدالت کی صفت سے محروم کر دیتی ہے۔ تفصیل کے لئے بداية المجتهد، كتاب الأقضية، الباب الثالث، الفصل الأول فى الشهادة، جزء ثانی صفحہ ۳۴۶ دیکھئے ۔ اسلام نے شاہد عادل کے لئے نہایت کڑی شرائط مقرر کی ہیں جنہیں نظر انداز کرنے کا نتیجہ آج کل کی عدالتوں کے کوائف سے ظاہر ہے۔ کتاب الشهادات میں مسئلہ تعدیل کو دیگر مسائل شہادت پر مقدم اسی لئے رکھا گیا ہے کہ حقوق کی حفاظت و سلامتی کے لئے یہ بطور بنیاد کے ہے۔ قاضی کا پہلا فرض یہ ہے کہ گواہ کی نسبت کما حقہ تحقیق کرے کہ وہ عادل ہونے کی صفت سے متصف ہے یا نہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ زانی، شرابی ، فریب شعار اور کذاب یہ قسم کھا کر کہ وہ سچ کہے گا، شہادت کے کٹہرے میں آکھڑا ہوتا ہے۔ پھر پولیس اور وکلاء جو چاہتے ہیں اس سے کہلواتے ہیں۔ اس کی وجہ اسلام کی تجویز کردہ شرائط تعدیل سے غفلت اور سہل انگاری ہے۔ اسی وجہ سے آج عدالتوں سے صداقت اٹھ گئی ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان باب میں