صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 705 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 705

صحيح البخاري - جلدم ۷۰۵ ۵۲ - كتاب الشهادات ٢٦٤٩ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۲۶۴۹: سجی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَن ابْن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْن عَبْدِ اللهِ عَنْ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عبید اللہ بن عبد اللہ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ سے، عبید اللہ نے حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے، حضرت زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس شخص کو سو کوڑے لگائے اور ایک سال جلاوطن کئے جانے کا حکم دیا جس نے زنا کیا رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ فِيْمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصَنْ بِجَلْدِ مِائَةٍ وَتَغْرِيْبِ عَامٍ۔تھا اور وہ شادی شدہ نہ تھا۔اطرافه: ٢٣١٤، ٢٦٩٦، ٢٧٢٥، ٦٦٣٤ ، ٦٨٢٨، ٦٨٣١، ٦٨٣٦، ٠٦٨٤٣ ٦٨٦٠، تشریح: ۷۲۷۹ ،۷۲۵٧١٩٤، ٩ شَهَادَةُ الْقَاذِفِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِی: یہ سوال کہ اگر فاسق فسق و فجور سے تائب ہو تو اس کی شہادت قابل قبول ہوگی یا نہیں ہوگی ؟ امام ابوحنیفہ کے نزدیک صحت شہادت کے لئے علاوہ احکام اسلام کی پابندی کے یہ دیکھ لینا بھی ضروری ہے (آن لا تُعْلَمَ مِنْهُ جُرْحَةٌ ) که خلاف ورزی شریعت سے متہم تو نہیں ہوا۔کیونکہ تو بہ سے حدود ساقط نہیں ہوتیں اور جو سزا یافتہ ہو وہ از روئے شرائط عدالت مجروح ہے اور تو بہ کرنے پر بھی بطور شاہد عادل شمار نہیں ہوگا۔فقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ فاسق کی شہادت بموجب نص صریح ولا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا (النور: ۵) قابل قبول نہیں۔(بداية المجتهد، کتاب الاقضية الباب الثالث الفصل الاول في الشهادة ، جزء ثانی صفحه ۳۴۶) آخری حصہ آیت إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ (النور: 1) استثناء خاص ہے۔اس کا تعلق ساری آیت سے نہیں بلکہ أُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ سے ہے نہ کہ وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ہے۔بہتان طرازی ایک شخص کو قطعی طور پر عدالت کی صفت سے محروم کر دیتی ہے۔تفصیل کے لئے بداية المجتهد، كتاب الأقضية، الباب الثالث الفصل الأول فى الشهادة، جزء ثانی صفحہ ۳۴۶ دیکھئے۔اسلام نے شاہد عادل کے لئے نہایت کڑی شرائط مقرر کی ہیں جنہیں نظر انداز کرنے کا نتیجہ آج کل کی عدالتوں کے کوائف سے ظاہر ہے۔کتاب الشهادات میں مسئلہ تعدیل کو دیگر مسائل شہادت پر مقدم اسی لئے رکھا گیا ہے کہ حقوق کی حفاظت وسلامتی کے لئے یہ بطور بنیاد کے ہے۔قاضی کا پہلا فرض یہ ہے کہ گواہ کی نسبت کما حقہ تحقیق کرے کہ وہ عادل ہونے کی صفت سے متصف ہے یا نہیں۔دیکھا گیا ہے کہ زانی ، شرابی، فریب شعار اور کذاب یہ قسم کھا کر کہ وہ سچ کہے گا، شہادت کے کٹہرے میں آکھڑا ہوتا ہے۔پھر پولیس اور وکلاء جو چاہتے ہیں اس سے کہلواتے ہیں۔اس کی وجہ اسلام کی تجویز کردہ شرائط تعدیل سے غفلت اور سہل انگاری ہے۔اسی وجہ سے آج عدالتوں سے صداقت اٹھ گئی ہے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوان باب میں