صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 703 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 703

صحيح البخاری جلدم ۷٠۳ ۵۲ - كتاب الشهادات وَجَلَدَ عُمَرُ أَبَا بَكْرَةَ وَشِبْلَ بْنَ مَعْبَدٍ اور حضرت عمر نے ابوبکر گا اور شبل بن معبد اور نافع ہ وَنَافِعًا بِقَذْفِ الْمُغِيْرَةِ ثُمَّ اسْتَتَابَهُمْ (بن حارث) کو مغیرہ پر زنا کی تہمت لگانے کی وجہ سے وَقَالَ: مَنْ تَابَ قَبِلْتُ شَهَادَتَهُ۔کوڑے لگائے اور پھر انہوں نے انہیں تو بہ کا موقع دیا اور فرمایا : جو توبہ کرلے میں اس کی شہادت مان لوں گا۔وَأَجَازَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُتْبَةَ وَعُمَرُ اور عبداللہ بن عقبہ اور عمر بن عبد العزیز اور سعید بن جبیر ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ اور طاؤس اور مجاہد اور شعبی اور عکرمہ (مولی بن عباس) وَطَاوُسٌ وَمُجَاهِدٌ وَالشَّعْبِيُّ وَعِكْرِمَةُ اور زہری اور محارب بن دثار اور شریح اور معاویہ بن وَالزُّهْرِيُّ وَمُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ وَشُرَيْح قرآ نے جائز قرار دیا۔وَمُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ۔وَقَالَ أَبُو الزَّنَادِ الْأَمْرُ عِنْدَنَا اور ابوزناد نے کہا: مدینہ میں ہمارے نزدیک تو دستور بِالْمَدِينَةِ إِذَا رَجَعَ الْقَاذِفُ عَنْ قَوْلِهِ یہ تھا کہ اگر زنا کی تہمت لگانے والا اپنی بات سے فَاسْتَغْفَرَ {رَبَّهُ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ۔پلٹ جاتا اور { اپنے رب سے مغفرت طلب کرتا تو اس کی شہادت قبول کر لی جاتی۔وَقَالَ الشَّعْبِيُّ وَقَتَادَةُ: إِذَا أَكْذَبَ ار شعبی اور قتادہ نے کہا: اگر وہ اپنے جھوٹ کو تسلیم نَفْسَهُ جُلِدَ وَقُبِلَتْ شَهَادَتْهُ۔کرلے تو اسے کوڑے لگائے جائیں اور اس کی شہادت قبول کر لی جائے۔وَقَالَ الثَّوْرِيُّ : إِذَا جُلِدَ الْعَبْدُ ثُمَّ اور (سفیان ثوری نے کہا: جب غلام کو کوڑے لگائے أُعْتِقَ جَازَتْ شَهَادَتُهُ وَإِنِ اسْتَقْضِيَ جائیں اور اس کے بعد وہ آزاد کر دیا جائے تو اس کی بھی شہادت جائز ہوگی۔اگر وہ شخص جس کو سزا دی گئی ہو، الْمَحْدُوْدُ فَقَضَايَاهُ جَائِزَةٌ۔قاضی بنا دیا جائے تو اس کے فیصلے نافذ ہوں گے۔وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ اور بعض لوگوں نے کہا: تہمت لگانے والے کی شہادت الْقَاذِفِ وَإِنْ تَابَ ثُمَّ قَالَ : لَا يَجُوزُ جائز نہیں ہوگی ، خواہ وہ تو بہ ہی کیوں نہ کر لے۔پھر یہ لفظ رَبَّهُ » فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۳۱۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔