صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 702 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 702

صحيح البخاری جلدم ۷۰۲ ۵۲- كتاب الشهادات ہے اور یہ رائے مسلمہ فقہاء ہے کہ سماعی شہادت کا درجہ استحسان کا ہے اور وہ فرماتے ہیں: وَإِلَّا فَالَاضِلُ أَنَّ الشَّهَادَةَ لَا بُدَّ فِيهَا مِنَ الْمُشَاهَدَةِ۔سماع شہادت ایسے لوگوں کی قابل قبول ہو گی جنہوں نے معتبر لوگوں سے ان کی چشم دید بات سنی اور ان سننے والوں کو ان کی نسبت یہ اطمینان ہو کہ ان کا جھوٹ پر سمجھوتا کرنا بعید ہے اور بعض کے نزدیک ایسے چار معتبر شخصوں کی شہادت قابل قبول ہوگی اور بعض کے نزدیک دو معتبر شخص ہی کافی ہیں اور بعض نے ایک ہی کافی سمجھا ہے بشرطیکہ شاہد عادل ہو ؛ جس کی دیانت وامانت کی نسبت پورا اطمینان ہو۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۱۳) (عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحه ۲۰۲) یہ وہ فقہی مسئلہ ہے جس کے لیے بابے باندھا گیا ہے۔عنوان باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کا ذکر اسی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے کہ رضاعت کے بارہ میں ایک شاہد عادل کی گواہی بھی کافی ہے۔محولہ روایت کتاب النکاح میں موصولاً منقول ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۵۱۰۱) بابے میں چار روایتیں منقول ہیں۔چاروں رضاعت سے متعلق ہیں۔دوسری حدیث ( نمبر ۲۶۴۵) میں ایک کے سوا جو صحابی ہیں باقی کے تمام راوی بصری ہیں۔تیسری حدیث ( نمبر ۲۶۴۶) کے راوی مدنی ہیں ، سوائے شیخ عبداللہ بن یوسف کے جو امام بخاری کے استاد ہیں۔چوتھی حدیث ( نمبر ۲۶۴۷) کے راوی سوائے حضرت عائشہ کے کوفی ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ رضاعت کے بارے میں صحابہ اور تابعین اور فقہاءمدینہ، بصرہ اور کوفہ متفق ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفح ۳۱۳) چوتھی روایت کے آخر میں عبدالرحمن بن مہدی کی متابعت کا ذکر ہے۔یعنی محمد بن کثیر کی طرح انہوں نے بھی حضرت عائشہ سے یہی روایت نقل کی ہے۔امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی یہی روایت ام المومنین حضرت عائشہ سے موصولاً منقول ہے ہمیں افلح سے متعلق یہ اختلاف ہے کہ آیا وہ ان کے رضاعی چاتھے یا رضاعی باپ۔(فتح الباری جز ۵ صفحه ۳۱۴۰۳۱۳) فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ یعنی رضاعت وہی ہے جو کمسن بچے کی بھوک دور کرنے کی غرض سے بچے کو اس کی خوراک کھانے کی عمر میں دودھ پلایا ہو ورنہ محض رضاعت کسی کو رضائی رشتہ میں منسلک نہیں کر دیتی۔انظُرْنَ۔اس لئے اس امر میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا جائے کہ کون فی الواقعہ رضاعی رشتہ دار ہے۔بَاب : شَهَادَةُ الْقَاذِفِ وَالسَّارِقِ وَالزَّانِي زنا کی تہمت لگانے والے اور چور اور زانی کی شہادت وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ اور اللہ عزوجل کا یہ ارشاد: ان کی شہادت کبھی قبول نہ شَهَادَةً اَبَدًا وَ أُولَبِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ کرو اور یہی لوگ دراصل فاسق ہیں، سوائے ان إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا۔( النور : ٥ - ٦) لوگوں کے جنہوں نے تو بہ کر لی ہو۔(صحیح مسلم کتاب الرضاع باب انما الرضاعة من المجاعة)