صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 701
صحيح البخاری جلدم 6+1 ۵۲ - كتاب الشهادات ٢٦٤٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۲۶۴۷: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَشْعَثَ بن أَبِي (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اشعث بن ابی شعثاء الشَّعْثَاءِ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ مَّسْرُوْقٍ أَنَّ سے اشعث نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے مسروق سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے پاس ) آئے اور النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي اُس وقت میرے پاس ایک شخص تھا، فرمایا: عائشہ یہ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ : کون ہے؟ میں نے کہا: میرا رضاعی بھائی۔آپ نے أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ قَالَ: يَا عَائِشَةُ فرمایا: عائشہ ؟ تم عورتیں دیکھ لیا کرو کون تمہارا بھائی ہے؟ انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ کیونکہ رضاعت ( دراصل ) وہی ہے جس میں دودھ مِنَ الْمَجَاعَةِ۔تَابَعَهُ ابْنُ مَهْدِي عَنْ کی مقدار اتنی ہو جس سے بچہ سیر ہو جائے۔(محمد بن کثیر کی طرح عبد الرحمن بن مہدی نے بھی سفیان سُفْيَانَ۔طرفه: ۵۱۰۲ تشریح: (ثوری) سے نقل کرتے ہوئے یہی روایت بیان کی۔الشَّهَادَةُ عَلَى الْأَنْسَابِ وَالرَّضَاعِ الْمُسْتَفِيْضِ وَالْمَوْتِ الْقَدِيمِ: فقہاء نے سماعی شہادت سے متعلق سوال اٹھایا ہے کہ وہ کون سے امور ہیں جن میں سماعی شہادت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ ان میں سے نسب، رضاعت ( دودھ پلانا ) اور موت کا ذکر عنوان باب میں کیا گیا ہے۔انہی پر ولادت محقق و غیر محقق ( غلامی یا آزادی) اور ولائت ( حق وراثت ) ملکیت مکان، نکاح ، مباشرت ، ولایت (سرپرستی ) وغیرہ کا قیاس کیا گیا ہے۔طلاق کی نسبت سماعی شہادت کافی نہیں سمجھی گئی۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے بیس سے زائد باتیں اس فہرست میں شمار کی ہیں۔جن میں سے بلوغت، عدت سے فراغت عفو، قصاص، ایلاء واظہار ( بیوی سے قطع تعلق کی قسم ) خلع ، تدبیر، مکا تبت بھی ہیں۔اس تعلق میں قابل اعتبار لوگوں کی سماعی شہادت کافی ہے کہ ہم عرصہ سے سن رہے ہیں کہ فلاں کو فلاں عورت نے دودھ پلایا ہے یا فلاں سے فلاں کا نکاح ہوا اور بطور بیوئی اس کے گھر میں آباد رہی ہے اور دعوت ولیمہ میں شریک ہوئے ہیں۔فلاں مکان یا غلام فلاں کا ہے اور فلاں فلاں کا بیٹا ہے۔فلاں کو فلاں کی زمین بطور وقف دی گئی ہے۔( فتح الباری جز ۵۰ صفحه ۳۱۳) الرَّضَاعُ الْمُسْتَفِيض سے مراد وہ رضاعت ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ فلاں نے فلاں کو دودھ پلایا ہے۔الْمَوْتُ الْقَدِيمُ سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص گواہی دے کہ فلاں مر چکا ہے۔اس میں بھی ساعی شہادت معتبر ہوگی بشرطیکہ گواہی دینے والے قابل اعتبار لوگ ہوں۔امام ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے اس ضمن میں نہایت قابل قدر رائے ظاہر کی