صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 699
صحيح البخاری جلدم ۶۹۹ ۵۲ - كتاب الشهادات باب ۷ : الشَّهَادَةُ عَلَى الْأَنْسَابِ وَالرَّضَاعِ الْمُسْتَفِيْضِ وَالْمَوْتِ الْقَدِيمِ نسب اور رضاعت کی جو شہرت ہو وہی تسلیم کی جائے گی اور پرانے متوفی کی وفات سے متعلق سماعی شہادت وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثویبہ نے مجھے اور أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ ثُوَيْبَةُ وَالسَّنْبُتُ ابوسلمہ کو دودھ پلایا تھا۔نیز رضاعت کے فیصلہ میں جلدی نہ کرنا۔٢٦٤٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۲۶۴۴: آدم نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكِ بتایا کہ انہوں نے کہا: ) حکم نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ نے عراک بن مالک سے، عراک نے عروہ بن زبیر اللهُ عَنْهَا قَالَتِ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت فَلَمْ آذَنْ لَهُ فَقَالَ : أَتَحْتَجِبِيْنَ مِنِّي وَأَنَا کی بہتی تھیں: افلح نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت عَمَّكَ؟ فَقُلْتُ : وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ : مانگی۔میں نے ان کو اجازت نہیں دی۔انہوں نے کہا: أَرْضَعَتُكِ امْرَأَةُ أَخِي بِلَبَن أَخِي۔کیا تم مجھ سے پردہ کرتی ہو بحالیکہ میں تمہارا چاہوں۔فَقَالَتْ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ میں نے کہا: یہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا: میری بھاوج نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: صَدَقَ تم کو میرے بھائی کا دودھ پلایا ہے، کہتی تھیں: میں نے أَفْلَحُ انْذَنِي لَهُ۔اس کی بابت رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: افلح نے سچ کہا ہے، اسے اندر آنے کی اجازت دو۔اطرافه ،٤٧٩٦، ۵۱۰۳، ۵۱۱۱، ٥۲۳۹، ٦١٥٦۔٢٦٤٥ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۲۶۴۵ مسلم بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ہمام نے ہم حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ جَابِرِ بْنِ سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے جابر زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بن زید سے، جابر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم