صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 698 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 698

صحيح البخاري - جلد ۴ ۶۹۸ ۵۲ - كتاب الشهادات كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انہوں نے کہا: میں نے وہی کہا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ أَدْخَلَهُ نے فرمایا تھا۔ جس مسلمان کے حق میں چار شخص بھلائی اللهُ الْجَنَّةَ۔ قُلْنَا : وَثَلَاثَةٌ ؟ قَالَ : وَثَلَاثَةٌ کی گواہی دیں اس کو اللہ جنت میں داخل کر دے گا۔ قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: وَاثْنَانِ۔ ثُمَّ لَمْ ہم نے پوچھا: اور تین بھی ۔ آپ نے فرمایا: تین بھی۔ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ۔ طرفه: ١٣٦٨ ہم نے کہا: دو بھی۔ آپ نے فرمایا: دو بھی۔ پھر اس کے بعد ہم نے ایک کے متعلق نہیں پوچھا۔ تشریح : تَعْدِيلُ كَمْ يَجُوزُ : شاہد عادل کسے سمجھ جائے گا ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس کے متعلق رائے عامہ اچھی ہو وہ اچھا سمجھا جائے گا۔ ہر شخص اپنے جیسے دوست رکھتا ہے۔ ان کا معاملہ آپس میں تو اچھا ہی ہوگا ۔ مگر کسی کے تعلقات نیک و بد کی جانچ دراصل اس طرح ہو سکتی ہے کہ وہ غیروں کے ساتھ کیسا رویہ رکھتا ہے۔ اس موازنہ و مقابلہ سے کسی شخص کے کردار کا تعین صحیح طور پر ہو سکتا ہے کہ وہ صالح ہے یا غیر صالح بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہاں یہ فقہی مسئلہ مد نظر ہے کہ آیا صرف ایک شاہد عادل کی شہادت بھی قابل قبول ہو سکتی ہے یا نہیں۔ یہ مسئلہ الگ آئے گا۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۱۱) چونکہ کتاب الشهادات کا تعلق حکو کا تعلق حکومت کے محکمہ عدلیہ وغیرہ سے ہے اور معاشرہ میں غیر مسلم افراد بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے اس کتاب کے مسائل اسلام کی اصولی تعلیم کے تحت رکھے گئے ہیں اور باب کا تعلق بھی اُصول دین سے ہے۔ فقہاء اسلام نے صحت شہادت کے لئے اسلام، بلوغت ، عقل، حریت اور عدالت ضروری شرطیں قرار دی ہیں ۔ جہاں تک مسلمان کی مسلمان کے لئے شہادت کا تعلق ہے یہ شرطیں درست ہیں ۔ مگر جہاں عدالت اور غیر مسلم کا تعلق ہے فقہاء کا اختلاف ہے اور عدالت کی شرط مسلم و غیر مسلم دونوں پر ہی اطلاق پاتی ہے۔ رائے عامہ ایک یہودی کے متعلق اچھی ہو تو وہ بھی شہادت کے اعتبار سے عادل ہوگا ۔ یہی منشاء ہے باب کی روایتوں کا اور قرآن مجید کی آیت کا ۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَأَصَابَتْكُمُ ۔ (المائده : ۱۰۷) یعنی اے مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آ جائے تو وصیت کے وقت تمہاری آپس کی گواہی کا طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ تم میں سے دو عدل والے گواہ مقرر ہوں یا دو گواہ جو تم مسلمانوں سے نہ ہوں بلکہ غیر لوگوں میں سے ہوں ۔ یہ طریقہ اس حالت میں ہوگا جب تم ملک میں سفر کر رہے ہو اور تم پر موت کی مصیبت نازل ہو جائے ۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ غیر مسلم بھی عدالت کی صفت سے متصف ہو سکتا ہے۔ اگر رائے عامہ اس کی نسبت اچھی ہو۔ اس تعلق میں کتاب الجنائز باب ۴۹ بھی دیکھئے۔ نیز کتاب الشہادات باب ۲۹ بھی ملاحظہ ہو۔