صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 697 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 697

صحيح البخاري - جلد ۴ ۶۹۷ ۵۲ - كتاب الشهادات النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ : وَجَبَتْ ثُمَّ جنازہ لے کر گزرے۔ لوگوں نے اس کی اچھی تعریف مُرَّ بِأُخْرَى فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا - أَوْ قَالَ کی ۔ آپ نے فرمایا: اس کے لئے (جنت) واجب ہوگئی۔ پھر اس کے بعد ایک اور ( جنازہ ) لے کر آپ غَيْرَ ذَلِكَ - فَقَالَ: وَجَبَتْ فَقِيلَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ قُلْتَ لِهَذَا وَجَبَتْ وَلِهَذَا کے پاس سے گزرے اور لوگوں نے اس کی مذمت کی یا راوی نے اس کے علاوہ اور لفظ کہا: تو آپ نے فرمایا: وَجَبَتْ قَالَ: شَهَادَةُ الْقَوْمِ اس کے لئے (دوزخ) واجب ہوگئی۔ آپ سے کہا گیا: الْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ۔ یا رسول اللہ ! آپ نے اس کے لئے بھی فرمایا کہ (جنت) واجب ہو گئی اور اس کے لئے بھی فرمایا (آگ) واجب ہوگئی ۔ آپ نے فرمایا: جماعت کی گواہی ہے۔ مومن تو زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔ طرفه: ١٣٦٧ ۔ ٢٦٤٣: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۲۶۴۳ موسیٰ بن اسماعیل نے ہمیں بتایا کہ داؤ دین إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ الى الفرات نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن بریدہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِي نے ابوالا سود سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ الْأَسْوَدِ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ وَقَعَ انہوں نے کہا: میں مدینہ میں آیا اور اس میں وہا تھی بِهَا مَرَضٌ وَهُمْ يَمُوْتُوْنَ مَوْتًا ذَرِيعًا اور لوگ بری موت مرر لله بری موت مر رہے تھے۔ میں حضرت عمر رضیہ ريضي عنه فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کے پاس بیٹھ گیا تو اتنے میں ایک جنازہ گزرا۔ اس کی فَمَرَّتْ جَنَازَةً فَأُثْنِيَ خَيْرًا فَقَالَ عُمَرُ : اچھی تعریف کی گئی اور حضرت عمر نے کہا: واجب ہو گئی۔ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ خَيْرًا پھر دوسرا جنازہ گزرا اور اس کی بھی اچھی تعریف کی گئی فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِالثَّالِثَةِ اور حضرت عمر نے کہا: واجب ہو گئی۔ پھر تیسرا گزرا اور فَأُثْنِيَ شَرًّا فَقَالَ : وَجَبَتْ فَقُلْتُ : وَمَا اس کی مذمت کی گئی، تو حضرت عمر نے کہا: واجب ہو گئی۔ وَجَبَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ : قُلْتُ میں نے پوچھا: امیر المؤمنین! یہ واجب ہو گئی کیا ہے؟