صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 695 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 695

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۹۵ ۵۲ - كتاب الشهادات إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پچھوا بھیجا۔ انہوں نے کہا: ہم نہیں جانتے کہ اس عورت بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى نے ہمارے ساتھی کو دودھ پلایا ہو۔ اس پر وہ سوار ہو کر اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟ نبی ﷺ کے پاس مدینہ پہنچے اور انہوں نے آپ سے پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب کیا فَفَارَقَهَا وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ۔ ہو جبکہ یہ بات کہی گئی ہے۔ اس پر عقبہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور ایک اور بیوی سے نکاح کیا۔ اطرافه ۸۸، ٢٠٥۲، ٢٦٥٩، ٢٦٦٠، ٥١٠٤۔ ت پہلولوسی تشریح : إِذَا شَهِدَ شَاهِدٌ أَوْ شَهُودٌ بِشَيْءٍ: شہادت میں ثبت پہلو کونی پیاو ر ترجیح ہے اور وی قاعدہ عام طور پر مسلم ہے۔ شہادت کے تعلق میں عدم علم ۔ عدم علم مقابل میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ عنوان باب میں حمیدی کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے؛ کتاب الزکوۃ باب ۵۵ روایت ۱۴۸۳ میں بھی دیکھئے ۔ یہ عبداللہ بن زبیر بن عیسیٰ بن عبداللہ بن زبیر بن عبید اللہ بن حمید ہیں۔ قاعدہ مذکورہ بالا اگر چہ اصولاً متفق علیہ ہے۔ لیکن بعض کے نزدیک تعارض کی صورت میں اثبات و منفی دونوں امور برابر ہوں گے اور ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کے لئے دلیل اور قرینے کی ضرورت ہوگی ۔ جب تک کوئی دلیل یا قرینہ نہ ہو ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جائے گی۔ فقہاء حنفیہ نے اس تعلق میں یہ قاعدہ تجویز کیا ہے کہ اگر نفی کا پہلو اس نوعیت کا ہے کہ وہ دلیل کا متقاضی ہو تو اس صورت میں دلیل کی طرف رجوع کیا جائے گا بشرطیکہ مثبت و منفی میں تعارض ہو ورنہ منفی پہلو نظر انداز ہوگا اور مثبت پر عمل کیا جائے گا۔ زیر باب جو روایت درج ہے اس میں ایک فریق نے رضاعت ( دودھ پلانے ) کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ دودھ پلانے والے نے اسے ، دودھ پلانے کی نسبت شہادت دی جو معتبر سمجھی گئی ا مقابل ان کے جنہیں کچھ علم نہ نہ تھا۔ تھا۔ یہ یہ روایت کتاب العلم زیر باب ۲۶ روایت نمبر ۸۸ میں بھی دیکھئے۔ بَابه : الشُّهَدَاءُ الْعُدُولُ عادل گواه وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَأَشْهِدُوا ذَوَى اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تم اپنے میں سے دو انصاف عَدْلٍ مِنْكُمْ ۔ (الطلاق: ٣) وَ مِمَّنْ کرنے والے گواہ ٹھہراؤ (اور فرمایا: ) اور وہ ایسے تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ ۔ (البقرة: ۲۸۳) لوگوں سے ہوں جن کو تم پسند کرتے ہو۔ ٢٦٤١ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعِ ۲۶۴۱: حکم بن نافع نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب