صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 693
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۹۳ ۵۲ - كتاب الشهادات یہ گواہ عادل ہے۔ دوسرے کے حق میں بھی عادل ہے اور میرے خلاف بھی ۔ ( فتح الباری شرح باب ۲ جزء ۵ صفحه ۳۰۷) ( بداية المجتهد، كتاب الأقضية، الباب الثالث الفصل الأول فى الشهادة، جزء ثانی صفحه ۳۴۶) صفت تعدیل کے پیش نظر ایک سوال یہ ہے کہ پوشیدہ شہادت دینے والے کی شہادت قابل وقعت ہے یا نہیں؟ حضرت عمر و بن حریث ( بن عمر و بن عثمان بن عبد اللہ بن عمر و بن مخزوم محرومی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بچے تھے اور ان کا شمار صحابہ میں ہے ۔ امام بیہقی نے ان سے متعلق بسند سعید بن منصور روایت نقل کی ہے کہ وہ پوشیدہ شہادت کو جائز سمجھتے تھے کے پوشیدہ رہ کر شہادت دینے والے کی شہادت قاض مادت قاضی شریح ، ابراہیم نخعی اور شعبی نے قبول نہیں کی ۔ امام مالک تھی کے نزدیک بھی ایسی شہادت مجروح ہے کیونکہ ایسی شہادت دینے والے کی نسبت شبہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ شہادت دینے کا خواہشمند ہے۔ خواہش و رغبت شہادت کی قیمت کو کم کرنے والے ہیں اور ایسی شہادت البَيِّنَةُ نہیں کہلا سکتی ۔ اس میں فریب سے کام لیا جا سکتا ہے۔ جس سے شہادت مشتبہ ہو جاتی ہے اور اس سے ایسا دروازہ کھلتا ہے جو حقوق کو خطرہ میں ڈالتا ہے۔ عامر شعبی ، ابن سیرین ، عطاء بن ! یرین ، عطاء بن ابی رباح اور قتادہ کے حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ سماعی ( ات سے ظاہر ہے کہ سماعی (شنیدہ ) بات بھی بعض حالات میں بطور شہادت کام دے سکتی ہے ہے۔ یہ حوالے علی الترتیب ابن ابی شیبہ ، امام بخاری اور کرابیسی سے بسندا جریح مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۳۰۸، ۳۰۹) (عمدۃ القاری جزء ۱۳۰ صفحه ۱۹۵) این شہادت کی شرط اول ( حقیقت تعدیل ) کے متعلق یہ وہ کے متعلق یہ وہ فقہی اختلاف ہے جس کا حل اس باب میں مد نظر ہے۔ قابل اصلاح حوالہ بھی دیا گیا ہے جو ابن ابی شیبہ سے بسند حاتم بن وردان منقول ہے کہ اگر کسی کو گواہ نہ ٹھہرایا گیا ہو اور وہ قاضی کے پاس جا کر سماعی امر سے متعلق اپنی معلومات دے تو یہ سماعی شہادت جائز ہوگی ۔ ۔ یہ سماعی شہادت بھی دراصل پوشیدگی کی ہی شہادت ہے جسے امام ابو حنیفہ اور امام شافعی نے جائز قرار نہیں دیا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۱۹۵) وَكَذَلِكَ يُفْعَلُ بِالْكَاذِبِ الْفَاجِرِ : حضرت عمرو بن حریث کے فتوی کا تعلق قرضدار کے انکار اور کا ذب اور فاجر کے کذب و فجور کی نسبت تحقیق کرنے سے ہے کہ اس کے کسی بے تکلف دوست کے ذریعے سے اقرار کروانے کا مخفی انتظام کیا جائے۔ تحقیق کی یہ صورت الگ ہے اور عدالتی کاروائی کے وقت الْبَيِّنَةُ ( واضح شہادت ) ضروری ہے۔ اس کے بغیر تحقیق ناتمام ہے۔ امام بخاری نے مسئلہ معنونہ کے تعلق میں جو دو روایتیں نقل کی ہیں ان کا تعلق بھی کسی عدالتی شہادت سے نہیں بلکہ عام سماعی امور سے ہے۔ بے شک انسان کی بہت سی معلومات کا ذریعہ کان بھی ہے مگر جہاں تک عدالتی کاروائی کا تعلق ہے۔ محض سماع کی بناء پر کوئی شہادت البَيِّنَةُ نہیں کہلا سکتی پوشیدہ اور مشتبہ قسم کی شہادت کا راستہ کھولنا عدل و انصاف کی راہ میں خطرہ پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عنوان باب نامکمل رکھا گیا ہے۔ پہلی روایت کے لئے كتاب الجنائز زیر باب ۷۹ روایت نمبر ۱۳۵۵ دیکھئے۔ (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الشهادات، باب ما جاء في شهادة المختبىء، جزء ۰ ۱ صفحه ۲۵۱) (مصنف ابن ابی شیبه كتاب البيوع والاقضية، باب فى شهادة السمع، جزء ۴ صفحه ۴۲۷ ) (بخاری، کتاب الشهادات، باب ا ا ، شهادة الاعمى) (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب البيوع والأقضية، باب فى شهادة الأعمى، جز ۴ صفحه ۳۵۲)