صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 692
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۹۲ ۵۲ - كتاب الشهادات ٢٦٣٩: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۶۳۹ : عبد اللہ بن محمد (مسندی ) نے مجھ سے بیان مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زہری سے، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَشِيِّ إِلَى النَّبِيِّ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رفاعہ قرظی کی بیوی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : كُنْتُ (حمیمہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلْقَنِي فَأَبَتْ طَلَاقِي نے کہا: میں رفاعہ کے پاس تھی تو اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور طلاق بھی قطعی ۔ اس پر میں نے فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيْرِ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ۔ فَقَالَ: عبدالرحمن بن زبیر سے نکاح کر لیا مگر اس کا تو کپڑے کے حاشیہ کی طرح ہے۔ آپ نے پوچھا: کیا تو رفاعہ أَتُرِيدِيْنَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةً؟ لَا کے پاس واپس جانا چاہتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا جب حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ تک کہ تو اس سے فائدہ نہ اٹھائے اور وہ تجھ سے فائدہ عُسَيْلَتَكِ۔ وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ نہ اٹھائے ۔ اس وقت حضرت ابوبکر آپ کے پاس وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت خالد بن سعید بن عاص يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ۔ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ دروازے پر انتظار کر رہے تھے کہ ان کو اندر آنے کی أَلَا تَسْمَعُ إِلَى هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ اجازت دی جائے۔ (خالد نے پکار کر ) کہا: ابوبکر النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ کیا آپ اس کی بات سن رہے ہیں جو یہ نبی علی کے پاس کھلم کھلا بیان کر رہی ہے؟ اطرافه: ٥٢٦٠ ، ٥٢٦١، ٥٢٦٥، ٥٣١٧ ٥٧٩٢، ٥٨٢٥، ٦٠٨٤۔ تشریح : شَهَادَةُ الْمُخْتَى ارشاد باری تعالٰى وَأَشْهِدُوا ذَوَى عَدْلٍ مِنكُمْ (الطلاق: ۳) مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ (البقرة : (۲۸۳) (۲۸۳) کی تعمیل میں شہادت سے متعلق پہلی شرط شرط جو باب ۲ میں بیان -------- ہوئی ہے وہ تعدیل ہے۔ تعدیل کے معنی ہیں عادل ثابت کرانا۔ قاضی کا فرض ہے کہ شاہد سے متعلق یقین کرے کہ شہادت کی شرطیں اس میں پائی جاتی ہیں یا نہیں ۔ ان میں سے بڑی اور پہلی شرط عدل ہے۔ جمہور کے نزدیک ظاہری مسلمان ہونا کافی نہیں، بلکہ راست گوئی اور راست روی، دیانت اور امانت وغیرہ اخلاق پسندیدہ سے متصف ہونا ضروری ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ شاہد عادل ہے بلکہ مدعی سے یہ اقرار لینا بھی ضروری ہے کہ