صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 691
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۹۱ ۵۲ - كتاب الشهادات سنا عَلَى شَيْءٍ وَإِنِّي سَمِعْتُ كَذَا وَكَذَا کسی بات پر گواہ نہیں بنایا مگر میں نے یہ ضرور سنا ہے۔٢٦٣٨ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۶۳۸ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ سَالِمٌ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی کہ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ الله سالم نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عَنْهُمَا يَقُوْلُ : انْطَلَقَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی سے سنا۔وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ حضرت ابی بن کعب انصاری چل پڑے۔دونوں کا الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا رخ اس نخلستان کی طرف تھا جس میں ابن صیاد رہتا ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُوْلُ اللهِ تھا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ آپ کھجوروں کے تنوں کی آڑ میں اپنے آپ کو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ چھپائے ہوئے چلنے لگے اور آپ کی کوشش تھی کہ النَّخْل وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ يسمع من چپکے سے ابن صیاد سے کچھ سن لیں ، پیشتر اس کے کہ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وہ آپ کو دیکھ پائے اور ابن صیاد اپنے بستر پر اپنی وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعْ عَلَى فِرَاشِهِ فِي چادر میں لپٹا ہوا تھا۔چادر میں سے گنگناہٹ کی آواز قَطِيفَةٍ لَّهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ فَرَأَتْ آ رہی تھی۔ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو أُمُّ ابْنِ صَيَّادِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ دیکھ لیا جبکہ آپ کھجوروں کے تنوں کی آڑ میں بچتے وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ بچاتے آرہے تھے۔اس نے ابن صیاد سے کہا: یہ محمد فَقَالَتْ لابْن صَيَّادٍ : أَيْ صَافِ هَذَا آگئے ہیں۔ابن صیاد رک گیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم مُحَمَّدٌ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ۔قَالَ النَّبِيُّ نے فرمایا: اگر اس کی ماں) اسے رہنے دیتی تو وہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ۔اطرافه: ۱۳۵۵، ٣٠۳۳، ٣٠٥٦، ٦١٧٤- (اپنے آپ کو ) ظاہر کر دیتا۔