صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 690
صحيح البخاری جلدم 790 ۵۲ - كتاب الشهادات کے نزدیک اس وصف کے علاوہ اس میں یہ صفت بھی ہو کہ وہ پسندیدہ اخلاق اور متقی یعنی محرمات و مکروہات سے بچنے والا ہو۔بداية المجتهد، كتاب الأقضية، الباب الثالث الفصل الأول فى الشهادة ، جزء ثانی صفحه ۳۴۶) قرآن مجید کا ارشاد اس بارہ میں یہ ہے: يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَيَا فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَدِمِينَ (الحجرات : 2) اے وہ لوگو! جو مومن ہو اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو پوری تحقیق کر لیا کرو۔ایسا نہ ہو کہ تم نا واقعی سے کسی قوم کو نقصان پہنچاؤ اور پھر نادم ہونا پڑے۔اور فرماتا ہے کہ فاسق کی شہادت قطعا قبول نہ کرو۔وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًا ۚ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) ( النور : ۶،۵) { اور آئندہ کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو اور یہی لوگ ہیں جو بد کردار ہیں۔فاسق اگر توبہ کریں اور اصلاح کرلیں تو اس صورت میں ان کی شہادت قابل قبول ہوگی۔کیونکہ اللہ غفور رحیم ہے۔فقہاء نے آخری جملہ سے متعلق جو استثنائیہ ہے اختلاف کیا ہے کہ آیا یہ استثناء بہتان لگانے والوں کی تو بہ سے متعلق ہے یا مطلق فاسقوں کی شہادت سے ہے۔جس کا ذکر قریب تر ہے کہ وہ قبول نہ کی جائے۔یہ بحث مفصل آگے آئے گی۔جہاں تک شاہد عدول کی تعریف سے ان آیات کا تعلق ہے وہ لفظ فاسق سے ظاہر ہے۔فسق ایسا کردار ہوتا ہے جو تعلقات معاشرہ کی صحت استواری کو بگاڑنے والا ہو۔فاسق کے معنی ہیں : نا پسندیدہ شخص جو حدود اللہ کوتوڑنے والا ہو۔امام بخاری شاہد عدول کی تعریف واقعہ افک سے استدلال کرتے ہوئے یہ بیان کرتے ہیں کہ ایسا شخص جو کسی کی نسبت جتنا علم ہو، اتناہی بیان کرنے والا ہو۔حضرت اسامہ اور حضرت بریرہ نے اتنی ہی بات بیان کی جتنی انہیں معلوم تھی۔خود آنحضرت ﷺ نے ان کی تصدیق فرمائی۔قیاس سے کام لینے والے کا بیان شہادت نہیں کہلائے گا۔جیسا کہ حضرت عمر نے ابن صیاد سے متعلق صرف قیاس کیا تھا اور نبی ﷺ نے ان کا قیاس قبول نہیں فرمایا اور انہیں روک دیا کہ صرف قیاس پر اس کا قتل جائز نہیں۔بَابِ : شَهَادَةُ الْمُخْتَبِي اس شخص کی شہادت جو اپنے آپ کو چھپائے رکھے وَأَجَازَهُ عَمْرُو بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: اور حضرت عمرو بن حریث نے اس کی شہادت جائز وَكَذَلِكَ يُفْعَلُ بِالْكَاذِبِ الْفَاجِر قرار دی۔انہوں نے کہا: جھوٹے (بدکار ) بدکردار وَقَالَ الشَّعْبِيُّ وَابْنُ سِيْرِيْنَ وَعَطَاء کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے اور شعبی ، ابن سیرین ، عطاء وَقَتَادَةُ: السَّمْعُ شَهَادَةً۔اور قتادہ نے کہا بسنی سنائی بھی شہادت ہوتی ہے۔وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُوْلُ : لَمْ يُشْهِدُوْنِي اور حسن بصری ) نے کہا؟ یوں کہے مجھے انہوں نے عمدۃ القاری میں ” وَقَالَ الْحَسَنُ يَقُولُ" کے الفاظ ہیں۔(عمدۃ القاری جز ۳۰ صفحہ ۱۹۵) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔