صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 688 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 688

صحيح البخاری جلدم ۶۸۸ ۵۲ - كتاب الشهادات والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بن جاؤ۔گو ( تمہاری گواہی) اپنے (خلاف ) یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف پڑتی ہو۔اگر وہ (جس کے متعلق گواہی دی گئی ہے ) غنی ہے یا محتاج ہے تو ( دونوں صورتوں میں ) اللہ ان دونوں کا ( تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔اس لئے تم کسی ذلیل ) خواہش کی پیروی نہ کیا کرو، تا عدل کر سکو اور اگر تم ( کسی شہادت کو ) چھپاؤ گے یا ( اظہار حق) سے پہلو تہی کرو گے تو ( یا درکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو؛ اللہ اس سے یقیناً آگاہ ہے۔یہ آیت بھی شہادت کے تعلق میں زریں ہدایتوں پر مشتمل ہے کہ عزیز ترین تعلقات قرابت محبت اور درجے کی رُو رعایت رکھے بغیر اور ذاتی اغراض سے بلا خوف و خطر سچی شہادت دو؛ خواہ اس سے اپنی جانوں کو نقصان ہی پہنچنے کا اندیشہ کیوں نہ ہو۔شہادت دیتے وقت پیچیدہ یا گی لپٹی بات نہ ہو اور نہ اس سے پہلوتہی کی جائے تا زمرہ قَوَّامِيْنَ بِالْقِسْطِ میں شمار کئے جاؤ۔الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي: سیار شاد نبوی کا حصہ ہے جو تر ندی میں مذکور ہے۔(ترمذی، کتاب الأحكام، باب ما جاء أن البيئة على المدعي) اس کا دوسرا حصہ وَالْيَمِيْنُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ آگے آئے گا۔(دیکھئے روایت نمبر (۲۶۶۸) کتاب الرهن روایت نمبر ۲۵۱۴ میں بھی یہ حصہ گذر چکا ہے۔یہاں البَيِّنَةُ ( کھلی شہادت ) کا وصف بیان کرنے کی غرض سے مذکورہ بالا آیات کی طرف توجہ مبذول کی گئی ہے کہ مدعی کو اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے واضح شہادت مبنی بر صداقت و عدل و انصاف پیش کرنی چاہیے۔بَاب ٢ : إِذَا عَدَّلَ رَجُلٌ رَجُلًا فَقَالَ : لَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا أَوْ مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا اگر کوئی شخص کسی شخص کو عادل قراردے اور یہ کہے کہ ہم اسے اچھا ہی جانتے ہیں یا ( کہے ) میں نے اس کو اچھا ہی جانا ہے وَسَاقَ حَدِيْثُ الْإِفْكِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اور واقعہ افک کو بیان کیا ہے۔جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُسَامَةَ حِيْنَ اسْتَشَارَهُ نے اسامہ سے مشورہ چاہا تو انہوں نے کہا: آپ کی فَقَالَ : أَهْلَكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا زوجہ ہیں اور ہم بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتے۔٢٦٣٧: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا :۲۶۳۷: حجاج بن منہال ) نے ہم سے بیان کیا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا ثَوْبَانُ، که عبد الله بن عمر نمیری نے ہمیں بتایا کہ ثوبان نے ہم وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ سے بیان کیا۔اور لیٹ ( بن سعد ) نے کہا: یونس نے ابْنِ شِهَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مجھے بتایا کہ ابن شہاب سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: