صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 687
صحيح البخاري - جلد ۴ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ۶۸۷ ۵۲ - كتاب الشهادات کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم لگی لپٹی باتیں کرو گے یا تم (النساء: ١٣٦) گواہی دینے سے پہلو تہی کرو گے تو اللہ تعالیٰ جو کچھ تم تشریح : مَا جَاءَ فِي الْبَيِّنَةِ عَلَى الْمُدَّعِي : دوسرے سے کر رہے ہو اس سے خوب آگاہ ہے۔ پہلا باب ارشاد نبوی کے الفاظ الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِی سے قائم کر کے اس کے تحت دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پہلی آیت یہ ہے : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنتُمْ بِدَيْنِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرۃ:۲۸۳) اے ایماندارو! جب تم ایک سے کسی مقررہ میعاد کے لئے قرض لو تو اسے لکھ لو اور چاہیے کہ کوئی لکھنے والا تمہارے درمیان ( طے شدہ معاہدہ کو ) انصاف کے ساتھ لکھ دے اور کوئی کا تب لکھنے سے انکار نہ کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ( لکھنا ) سکھایا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ (ضرور) لکھے اور تحریر وہ لکھوائے جس کے ذمہ حق ہو اور چاہیے کہ وہ ( لکھواتے وقت ) اللہ کا جو اس کا رب ہے، تقوی مد نظر رکھے اور اس میں سے کچھ (بھی) کم نہ کرے اور اگر وہ شخص جس کے ذمہ حق ہے، نادان ہو یا کمزور ہو یا خود لکھوانے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو چاہیے کہ (اس کی بجائے ) اس کا کار پرداز انصاف کے ساتھ (تحریر) لکھوائے اور تم اپنے مردوں میں سے ( اس موقع پر دو گواہ مقرر کر لیا کرو۔ ہاں اگر دونوں (گواہ ) مرد نہ ہوں تو ( موقع کے ) گواہوں سے جن لوگوں کو ( بطور گواہ کے ) تم پسند کرتے ہو؟ ان میں سے ایک مرد اور دو عورتیں (گواہ بنالیا کرو۔ دو عورتوں کی شرط اس لئے ہے) تا ان میں ایک کے بھول جانے کی صورت میں دونوں میں سے (ہر) ایک دوسری کو ( بات ) یاد دلائے اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں اور (خواہ ) چھوٹا (لین دین) ہو یا بڑا ہو تم اسے اس کی میعاد سمیت لکھنے میں سستی نہ کیا کرو۔ یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والی ہے اور شہادت کو زیادہ درست رکھنے والی ہے۔ نیز (تمہارے لئے اس بات کو ) قریب تر ( کر دینے والی ) ہے کہ تم شک میں نہ پڑو (پیس لین دین کا لکھنا ضروری ہے) سوائے اس (صورت ) کے کہ تجارت دست بدست ہو ۔ جسے تم آپس میں ( مال اور رقم ) لے دے کر اسی وقت قصہ ختم کر ) لیتے ہو۔ اس صورت میں اس (لین دین) کے نہ لکھنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں اور جب باہم خرید و فروخت کرو تو گواہ بنالیا کرو (اور یہ امر یادر ہے کہ ) نہ کا تب کو تکلیف دی جائے اور نہ گواہ کو اور اگر تم (ایسا) کرو تو یہ (بات) تم میں نافرمانی کی علامت ہوگی اور چاہیے کہ ( تم ) اللہ کا تقوی اختیار کرو اور (اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تمہیں علم دے گا اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ یہ آیت شہادت کے تعلق میں اصولی ہدایات پر حاوی ہے کہ وہ معاملات ضبط تحریر میں لائے جائیں جو عدل و انصاف پر مبنی ہوں ۔ تحریر میں پوری صحت مد نظر رہے۔ کم از کم دو ایسے گواہوں کی موجودگی میں لکھی جائے جو پسندیدہ اخلاق ہوں۔ ایسی تحریر البَيِّنَةُ ( واضح شہادت ) کہلائے گی ۔ دوسری آیت یہ ہے : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۔۔۔۔۔ تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ) (النساء : ۱۳۶) اے ایماندارو! تم پوری طرح انصاف پر قائم رہنے