صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 686
صحيح البخاری جلد ۴ YAY ۵۲ - كتاب الشهادات لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ تُمِلَ هُوَ فَلْيُمْلِلْ حق ہے اگر وہ نادان یا نا تواں ہو یا وہ خود لکھوانہ سکتا ہو تو وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ چاہیے کہ اس کا سر پرست انصاف سے لکھوائے اور تم مِنْ رِجَالِكُمُ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُونَا اپنے مردوں سے دو گواہ ٹھہرالو۔اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں، ایسے لوگوں سے جن کو تم بطور گواہ پسند رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَ امْرَاَتْنِ مِمَّنْ کرتے ہو۔(دو عورتیں اس لئے) کہ اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو ایک دوسری کو یاد دلا دے۔اور گواہ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَنْ تَضِلُّ إحْدُهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدُهُمَا الأُخرى جب گواہی کے لئے) بلائے جائیں، انکار نہ کریں اور وَلَا يَأْبَ الشُّهَدَاءُ إِذَا مَا دُعُوا وَلَا لین دین کا معاملہ لکھنے میں سہل انگاری نہ کیا کرو۔خواہ تَسمُوا اَنْ تَكْتُبُوهُ صَغِيرًا اَوْ كَبِيرًا (لین دین) چھوٹا ہو یا بڑا، مع اس کی میعاد کے لکھا إلَى أَجَلِهِ ذَلِكُمْ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ وَأَقْوَمُ جائے۔یہ اللہ کے نزدیک بہت منصفانہ اور شہادت کیلئے لِلشَّهَادَةِ وَأَدْنَى أَلَّا تَرْتَابُوا إِلَّا ان نہایت مضبوط بات ہے اور قریب ترین ذریعہ ہو گا کہ تم تَكُونَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيرُ ونَهَا بَيْنَكُمْ شک و شبہ نہیں کرو گے۔البتہ یہ کہ تجارت نقد به نقد ہو؛ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَلَّا تَكْتُبُوهَا ہے تم اپنے درمیان ہاتھوں ہاتھ لے دے رہے ہو تو اس صورت میں تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اسے نہ لکھو اور تم وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ وَلَا يُضَارٌ كَاتِب گواہ ٹھہرا لیا کرو جب تم آپس میں خرید وفروخت کرو اور وَلَا شَهِيدٌ وَاِنْ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ فُسُوقُ لکھنے والے کو نقصان نہ پہنچایا جائے، نہ گواہ کو۔اور اگر تم بِكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ الله ایسا کرو گے تو پھر یہ تمہاری نافرمانی ہوگی۔اللہ کی ناراضگی وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ (البقرة: ۲۸۳) سے بچتے رہواور اللہ تمہیں سکھاتا ہے اور اللہ ہر ایک بات وَقَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: يَايُّهَا الَّذِينَ کو خوب جاننے والا ہے۔اور اللہ عزوجل کا یہ فرمانا : امَنُوا كُوْنُوْا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ اے ایماندارو! تم انصاف پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے اللہ کے لئے گواہ ہو جاؤ گو تم کو خود اپنے برخلاف لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ یا اپنے والدین کے برخلاف یا رشتہ داروں کے برخلاف وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا ہی کیوں نہ شہادت دینی پڑے ( قطع نظر اس کے) اگر فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى کوئی غنی ہو یا محتاج تو اللہ ان دونوں کا تم سے زیادہ أَنْ تَعْدِلُوا ۚ وَاِنْ تَلُوا اَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ خیر خواہ ہے اور تم انصاف کرنے میں نفسانی خواہشات