صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 685
صحيح البخاری جلد ۴ دايد ۶۸۵ ۵۲ - كتاب الشهادات ٥٢ - كِتَابُ الشَّهَادَاتِ 0000000000 شہادت کے معنی ہیں قطعی خبر ۔ شَهِدَ يَشْهَدُ شُهُودًا سے شہادت اسم مصدر ہے جس کے معنی موجود ہونے اور آنکھ سے دیکھنے کے ہیں ۔ قول الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ (كتاب فرض الخمس باب ۹) میں موجود گی اور شراکت مراد ہے۔ یعنی غنیمت کا حق اسی کا ہوتا ہے جو لڑائی میں شریک ہو۔ (عمدۃ القاری جز ۱۳ صفحہ ۱۹۱ ) لفظ شہادت کے یہ لغوی معنی ہیں اور شرعی اصطلاح میں چشم دید واقعہ سے متعلق بیان دینا شہادت کہلاتا ہے۔ سنی سنائی بات یا قیاس کی بناء پر اطلاع از روئے اصطلاح شریعت شہادت نہیں کہلائے گی، بلکہ آنکھوں دیکھی بات سے متعلق اطلاع شہادت ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شہادت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تَرَى الشَّمْسَ قَالَ : نَعَمُ۔ فَقَالَ: عَلَى مِثْلِهَا فَاشْهَدُ أَوْ دَعْ۔ (شعب الإيمان للبيهقى الرابع والسبعون، باب في الجود والسخاء، جزءے صفحہ ۴۵۵) سورج کو دیکھتے ہو؟ کہا: ہاں ۔ تو آپؐ نے فرمایا: ایسی ہی شہادت جس طرح سورج کو دیکھ کر ورنہ رہنے دو۔ اسی واضح بیان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ البَيِّنَةُ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس کے معنی ہیں: واضح شہادت۔ باب ۱ : مَا جَاءَ فِي الْبَيِّنَةِ عَلَى الْمُدَّعِي مدعی کے ذمہ شہادت پیش کرنے کے بارے میں جو احکام آئے ہیں لِقَوْلِهِ تَعَالَى : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو جب تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنِ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى تم کسی مقررہ معیاد تک کے لئے آپس میں لین دین کرو فَاكْتُبُوهُ وَلْيَكْتُبُ بَيْنَكُمْ كَاتِبٌ تو اُسے لکھ لیا کرو اور چاہیے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا انصاف سے (معاہدہ لین دین ) لکھے اور کوئی بِالْعَدْلِ وَلَا يَأْبَ كَاتِبٌ أَنْ يَكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللَّهُ فَلْيَكْتُبُ وَلْيُمْلِلِ کوئی لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے (لکھنا سکھایا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ (ضرور) الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللهَ رَبَّهُ وَلَا لکھے اور جس شخص کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور چاہیے يَبْخَسُ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنْ كَانَ الَّذِي کہ وہ اللہ کا تقوی اختیار کرے جو اس کا رب ہے اور عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهَا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ وہ کسی حق سے کچھ کم نہ کرے اور جس شخص کے ذمہ کوئی