صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 681 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 681

صحيح البخاری جلدم تشریح: HAI ۱ ۵ - كتاب الهبة فَضْلُ الْمَنِيحَةِ الْمَنِيْحَةُ دود میل جانور، جو عارضی استفادہ پر دیا جائے۔آج کل یہ رواج موجود ہے۔ایک دوست دوسرے دوست کو دو دھیل جانور نیک تعلقات قائم رکھنے کی غرض سے دیتا ہے۔روایات زیر باب سے ظاہر ہے کہ عربوں میں یہ دستور صرف دور ھیل جانور سے مخصوص نہ تھا بلکہ پھلدار درخت بھی اسی نیت سے نامزد کر دیئے جاتے تھے۔اس باب میں چھ روایتیں ہیں۔پہلی روایت حضرت ابو ہریرہ کی جس میں لفحة ( حاملہ اونٹنی ) کا ذکر ہے جو بچہ جننے کے قریب ہو۔یہی روایت امام مالک نے بالفاظ نِعْمَ الصَّدَقَةُ نقل کی ہے۔الصَّدَقَةُ ہر اس کارخیر کو کہتے ہیں جو خالص رضائے الہی کے لئے کیا جائے۔ان کی اس روایت کیلئے دیکھئے بخاری، کتاب الأشربة، باب۱۳، روایت نمبر ۵۶۰۸ - دوسری حدیث حضرت انس کی وہ ہے جس میں پھلدار درخت بطور منیحہ دیئے جانے کا ذکر ہے۔حضرت ام ایمن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلائی تھیں۔یہ عبید حبشی کی بیوی تھیں اور ایمن ان کی کنیت ہے۔حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب کی کنینر تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت آمنہ کے ہاں پیدا ہوئے تو حضرت ام ایمن آپ کی دایہ اور دودھ پلائی ماں ہوئیں۔حضرت آمنہ جلد ہی فوت ہو گئی تھیں۔تیسری روایت حسان بن عطیہ کی ہے کہ اچھی خصلتیں چالیس ہیں۔ان میں سے ایک اعلیٰ خصلت دودھیل بکری کو عار بیت دینا ہے۔امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ بعض نے نیک خصلتیں شمار کی ہیں جو چالیس سے بھی بڑھ گئی ہیں۔چالیس اور ساٹھ کا عدد کثرت پر دلالت کرتا ہے۔اس تعلق میں کتاب الإیمان، باب ۱۶،۲، ۲۰ کی متعلقہ روایات بھی دیکھئے۔جہاں بعض نیک باتیں مذکور ہیں۔ان کے علاوہ عیب پوشی غیبت سے اجتناب، مظلوم کی نصرت کسی قسم کی ہتک عزت کو روکنا، غمگین کی دلجوئی کرنا، ناواقف کاری گر کو ہنر سکھانا، کم عقل شخص کے کاروبار میں مدد دینا، خندہ پیشانی سے پیش آنا ، شادی نمی میں شریک ہونا ، خویش سے شیریں کلامی سے پیش آنا، بھلی بات کہنا، درخت لگانا، کملائے ہوئے پودے کو پانی دینا، پیاسے بھو کے جانور کو پلانا کھلانا عیادت اور تیمار داری کرنا، باہم ملنا جلنا، ہر ایک کی خیر خواہی چاہنا، محلہ کے کمزور لوگوں کی خبر گیری کرنا ، ان کی ضروریات بہم پہنچانا جیسا کہ فرمایا جوتی کا تسمہ بھی تو اگر کسی کو دیتا ہے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے، یہاں تک کہ چھینکنے والے کو دعا دینا، مجلس میں کھل کر بیٹھنا، آنے والے کے لئے جگہ چھوڑ نا وغیرہ۔ان نیک باتوں کا ذکر مستند احادیث میں وارد ہوا ہے۔اس تعلق میں دیکھئے فتح الباری جزء۵ صفہ ۳۰۲۔چوتھی حدیث حضرت جابر کی ہے، جس میں کھیتی باڑی کو مفت کا شتکاری کے لئے دینا بھی منیحہ شمار کیا گیا ہے۔اس تعلق میں کتاب المزارعة باب ۱۸ بھی دیکھئے۔پانچویں روایت حضرت ابو سعید خدری کی ہے۔وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ کہہ کر سابقہ روایت پر عطف کیا گیا ہے کہ یہ بھی اوزاعی سے مروی ہے۔اس کے لیے کتاب الزكاة باب ۳۶ دیکھئے۔چھٹی روایت حضرت عبداللہ بن عباس کی ہے۔اس کے لیے کتاب المزارعة باب ۱۸ بھی دیکھئے۔