صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 680
صحيح البخاری جلدم ۶۸۰ ۱ ۵ - كتاب الهبة رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بدوی آیا۔اس فَسَأَلَهُ عَنِ الْهِجْرَةِ فَقَالَ : وَيْحَكَ إِنَّ نے آپ سے ہجرت کی نسبت پوچھا۔آپ نے فرمایا: ہجرت کا معاملہ تو بہت ہی مشکل ہے۔کیا تمہارے الْهِجْرَةَ شَأْنُهَا شَدِيدٌ فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِل پاس کچھ اونٹ ہیں؟ اس نے کہا: ہیں۔آپ نے فرمایا: قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَتُعْطِي صَدَقَتَهَا قَالَ: ان کی زکوۃ دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں دیتا ہوں۔آپ نَعَمْ۔قَالَ: فَهَلْ تَمْنَحُ مِنْهَا شَيْئًا؟ قَالَ : نے فرمایا کسی کو دودھ پینے کے لئے بھی جانور دیتے ہو؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔پھر آپ نے دریافت فرمایا: نَعَمْ۔قَالَ: فَتَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟ قَالَ: کیا ان اونٹوں کو پانی پلاتے وقت دوہتے ہو (اور نَعَمْ۔قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ محتاجوں کو ان کا دودھ پلاتے ہو؟) اُس نے کہا: جی ہاں۔فَإِنَّ اللهَ لَنْ يَّتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا۔تب آپ نے فرمایا: پھر تم سمندروں سے پار رہ کر بھی عمل کرتے رہو تو اللہ تعالی تمہارے کسی عمل کا ثواب اطرافه ١٤٥٢، ٣٩٢٣، ٦١٦٥۔دینے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کرے گا۔٢٦٣٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۶۳۴: محمد بن بشار نے ہمیں بتایا۔عبدالوہاب نے حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ ہم سے بیان کیا کہ ایوب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَعْلَمُهُمْ عمرو بن دينار ) سے ہعمرو نے طاؤس سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھ سے اس نے بیان کیا جو اس بات بِذَلِكَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کو اُن تمام (صحابہ) میں سے بڑھ کر جاننے والا تھا یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی عہ ایسی وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أَرْضِ تَهْتَزُّ زَرْعًا زمین کی طرف گئے جس میں کھیتی لہلہارہی تھی۔آپ نے فَقَالَ: لِمَنْ هَذِهِ؟ فَقَالُوا: اكْتَرَاهَا فرمایا، کس کی ہے؟ تو لوگوں نے کہا: فلاں شخص نے یہ فُلَانٌ۔فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَوْ مَنَحَهَا إِيَّاهُ زمین پہ پر لی ہوئی ہے۔آپ نے فرمایا: اگر زمین کا كَانَ خَيْرًا لَّهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا أَجْرًا مالک اس زمین کو اسے یونہی دے دیتا تو یہ اس کیلئے بہتر ہوتا بہ نسبت اس کے کہ وہ اس پر مقررہ لگان لیتا۔مَّعْلُوْمًا۔اطرافه: ٢٣٣٠، ٢٣٤٢-