صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 679
صحيح البخاری جلد ۴ 729 ۱ ۵ - كتاب الهبة ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُوْدِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اس کے ثواب کی اُمید اور اس وعدہ ثواب کو سچا جانتا ہے جو اللہ کی طرف سے کیا گیا ہے تو اللہ اسے اس کے اس امید ویقین کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا۔اللهُ بِهَا الْجَنَّةَ۔قَالَ حَسَّانُ: فَعَدَدْنَا مَا دُونَ مَنِيْحَةِ حسان کہتے تھے: ہم نے دودھیل بکری کے عطیہ کے الْعَنْزِ مِنْ رَةِ السَّلَامِ وَتَشْمِيْتِ سواد وسری خصلتوں کا شمار کیا۔جیسے سلام کا جواب دینا الْعَاطِسِ وَإِمَاطَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ اور چھینکنے پر دعا کرنا اور راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا۔وَنَحْوِهِ فَمَا اسْتَطَعْنَا أَنْ نَّبْلُغَ خَمْسَ اس طرح کی اور باتیں بھی۔لیکن ہم سے پندرہ خصلتوں تک ہی گنتی پوری ہو سکی۔عَشْرَةَ خَصْلَةٌ۔٢٦٣٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۲۶۳۲ محمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءٌ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: عطاء نے عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَتْ مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت جابر ہ سے روایت لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِيْنَ فَقَالُوا: کی۔انہوں نے کہا کہ ہم انصار میں بعض لوگوں کے تُؤَاجِرُهَا بِالتَّلْثِ وَالرُّبُعِ وَالْبَصْفِ پاس زمینیں ان کی ضرورت سے زیادہ تھیں۔انہوں نے کہا: ہم ان زمینوں کو تہائی یا چوتھائی یا آدھوں آدھ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بٹائی پر دے دیتے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا : جس کی كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا زَمین ہو تو چاہیے کہ وہ اس میں خود کھیتی باڑی کرے یا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ۔اسے اپنے بھائی کو یونہی دے دے۔اگر ایسا نہ کرے تو پھر اپنی زمین کو یونہی رہنے دے۔طرفه: ٢٣٤٠- ٢٦٣٣: وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوْسُفَ ۲۶۳۳: اور محمد بن یوسف (امام بخاری کے شیخ ) نے حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ کہا: اوزاعی نے ہم سے (اسی سند سے) کہا کہ زہری نے حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي مجھے بتایا۔انہوں نے کہا ) عطاء بن یزید نے مجھ سے أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى بیان کیا کہ حضرت ابوسعید خدری ) نے مجھے بتایا۔انہوں