صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 678
صحيح البخاری جلدم ۶۷۸ ۱ ۵ - كتاب الهبة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ماں تھیں۔ابن شہاب کہتے تھے۔مجھے حضرت انس بن فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ فَانْصَرَفَ إِلَى مالک نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اہل خیبر کی الْمَدِينَةِ رَدَّ الْمُهَاجِرُوْنَ إِلَى الْأَنْصَارِ لڑائی سے فارغ ہوئے اور مدینہ کو کوٹ گئے، تو مَنَائِحَهُمْ {الَّتِي كَانُوْا مَنَحُوهُمْ مِنْ مہاجرین نے انصار کے وہ عطیے واپس کر دیئے۔یعنی ثِمَارِهِمْ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وه پھلدار درخت { جو انہوں نے ان کو اپنے باغوں وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّهِ عِذَاقَهَا فَأَعْطَى سے دیے تھے ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت انس کی ماں کو ان کی کھجوریں واپس کر دیں أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ۔اور ان کی جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ایمن کو اپنے باغ سے کچھ درخت دیئے۔وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيْبِ أَخْبَرَنَا أَبِي اور احمد بن شبیب کہتے تھے: میرے باپ نے بھی عَنْ يُونُسَ بِهَذَا وَقَالَ: مَكَانَهُنَّ مِنْ یونس سے روایت کرتے ہوئے مجھے یہی بات بتائی اور مِنْ حَائِطِهِ کی بجائے مِنْ خَالِصِهِ کے الفاظ خالصه۔کہے: یعنی اپنی خاص جائیداد سے۔اطرافه ۳۱۲۸، ۶۰۳۰، ٤۱۲۰۔٢٦٣١: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۶۳۱: مسدد نے ہمیں بتایا کہ عیسی بن یونس نے ہم عِيْسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ سے بیان کیا۔اوزاعی نے ہمیں بتایا کہ حسان بن عطیہ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي كَبْشَةَ نے ابو کبش سلولی سے روایت کی کہ ( انہوں نے کہا : ) السَّلُوْلِيَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سنا۔رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ : قَالَ رَسُوْلُ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھی اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْبَعُوْنَ خصلتیں چالیس ہیں۔ان میں سے اعلیٰ خصلت دور ھیل خَصْلَةٌ أَعْلَاهُنَّ مَنِيْحَةُ الْعَنْزِ مَا مِنْ بکری کو عاریتاً دینا ہے۔جو بھی عمل کرنے والا ان عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِّنْهَا رَجَاءَ خصلتوں میں سے کسی خصلت پر بھی عمل کرتا ہے بحالیکہ الفاظ " الَّتِي كَانُوا مَسَحُوهُمْ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء۵ حاشیہ صفحہ ۲۹۸) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔