صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 677
صحيح البخاری جلدم ۱ ۵ - كتاب الهبة مِنْحَةً وَالشَّاةُ الصَّفِيُّ تَغْدُو بِإِنَاءٍ ہے اور اسی طرح وہ بکری بھی جو خوب دودھ دے۔صبح کو بھی باہر جاتے جاتے ایک برتن بھر کر دیتی ہو اور وَتَرُوْحُ بِإِنَاءٍ۔شام کو بھی واپس آکر ایک برتن بھر کر دودھ دے۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ عبد اللہ بن یوسف اور اسماعیل ( بن ابی اولیس) وَإِسْمَاعِيلُ عَنْ مَالِكٍ قَالَ: نِعْمَ نے ہمیں بتایا۔مالک سے یہی روایت نقل کی ہے۔انہوں نے (کیا ہی اچھا عطیہ کی جگہ) یہ کہا : کیا الصَّدَقَةُ۔طرفه: ٥٦٠٨ ہی اچھا صدقہ ہے۔٢٦٣٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۶۳۰ عبدالله بن یوسف نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ کیا۔ابن وہب نے ہمیں خبر دی۔(انہوں نے کہا : ) ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُوْنَ ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ الْمَدِينَةَ مِنْ مَّكَّةَ وَلَيْسَ بِأَيْدِيْهِمْ سے روایت کی، کہا: جب مہاجر مکہ سے مدینہ آئے وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ أَهْلَ الْأَرْضِ وَالْعَقَارِ اور ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ تھا اور انصار زمین اور فَقَاسَمَهُمُ الْأَنْصَارُ عَلَى أَنْ يُعْطُوهُمْ جائیداد والے تھے تو انصار نے ان سے معاہدہ کیا کہ ثِمَارَ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ وَيَكْفُوْهُمُ وہ ان کو اپنے باغوں کا میوہ ہر سال دیا کریں گے۔لیکن الْعَمَلَ وَالْمُؤْنَةَ۔وَكَانَتْ أُمُّهُ أُمُّ أَنَسٍ ان میں کام کاج وہ خود ہی کریں گے۔(مہاجرین کو أُمُّ سُلَيْمٍ كَانَتْ أُمَّ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نہیں کرنے دیں گے۔حضرت انس کی ماں حضرت طَلْحَةَ فَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسِ اتم سلیم تھیں جو حضرت عبداللہ بن ابی طلحہ کی بھی ماں رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِذَاقًا تھیں تو حضرت انسؓ کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ فَأَعْطَاهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم کو کچھ کھجور کے درخت دیئے ہوئے تھے۔نبی أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلَاتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ۔قَالَ صلى اللہ علیہ وسلم نے یہ درخت اپنی کھلائی حضرت ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : ام ایمن کو دے دیئے۔جو حضرت اسامہ بن زید کی