صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 676
صحيح البخاری جلدم 727 بَاب ٣٤: الإِسْتِعَارَةُ لِلْعَرُوْسِ عِنْدَ الْبِنَاءِ دلہن کے لئے رخصت کے وقت کوئی چیز عاریتا لینا ۱ ۵ - كتاب الهبة ٢٦٢٨: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۲۶۲۸: ابونعیم نے ہمیں بتایا کہ عبدالواحد بن ایمن عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ حَدَّثَنِي أَبِي نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا:) میرے قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ باپ نے مجھ سے بیان کیا۔کہتے تھے۔میں حضرت عَنْهَا وَعَلَيْهَا دِرْعُ قِطْرٍ ثَمَنُ خَمْسَةِ عَائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اندر گیا اور وہ موٹے دَرَاهِمَ فَقَالَتْ: ارْفَعْ بَصَرَكَ إِلَى کپڑے کی ایک قمیض پہنے ہوئے تھیں جس کی پانچ جَارِيَنِي انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهَا تُزْهَى أَنْ درہم قیمت ہوگی۔حضرت عائشہ نے (مجھ سے) کہا: میری لونڈی کی طرف دیکھو، وہ یہ قمیص گھر میں پہننے تَلْبَسَهُ فِي الْبَيْتِ وَقَدْ كَانَ لِي مِنْهُنَّ نخرہ کرتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ دِرْعٌ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ میں بھی میرے پاس ایسی ایک قمیص تھی۔مدینہ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ تُقَيَّنُ جس عورت کو بھی عروسی کے بناؤ سنگھار کی ضرورت بِالْمَدِينَةِ إِلَّا أَرْسَلَتْ إِلَيَّ تَسْتَعِيْرُهُ۔ہوتی ، وہ مجھ سے یہ قمیص عاریتاً منگواتی۔دِرْعُ قِطْرٍ : در زنانہ قمیض کو کہتے ہیں اور قطر بحرین کے ساحل پر مشہور بندرگاہ ہے۔یہاں سوتی تشریح: موٹا کپڑا بنا جاتا تھا۔( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۹۷) بَاب ٣٥ : فَضْلُ الْمَنِيْحَةِ وہ دُودھیل جانور جو کسی کو عاریہ دیا جائے ، اس کے دینے کی فضیلت ٢٦٢٩: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۲۶۲۹ یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ مالک حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دودھیل اوٹنی قَالَ: نِعْمَ الْمَنِيْحَةُ اللَّقْحَةُ الصَّفِيُّ جو خوب دودھ دے، اس کا دینا بھی کیا ہی اچھا عطیہ