صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 675 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 675

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۷۵ ۱ ۵ - كتاب الهبة میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ ۔۔۔۔۔ وَالرَّعِيمُ غَارِمٌ مستعار شئے واپس ہوگی اور ضامن نقصان کا ذمہ دار ہے۔ یہ حدیث ترمذی نے حسن اور ابن حبان نے صحیح قرار دی ہے لیے اس کے ہم معنی صفوان بن امیہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر ان سے کچھ زر ہیں عاریتاً طلب فرمائیں ، تو انہوں نے پوچھا کہ أَغَصُبٌ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ لَا بَلْ عَارِيَةٌ مَّضْمُونَةٌ ۔ اے محمد ! کیا یہ جبر الی جا رہی ہیں؟ فرمایا: نہیں بلکہ عاریتا اور واپسی کی ) ضمانت کے ساتھ۔ یہ روایت ابوداؤد اور نسائی نے نقل کی ہے۔ نیز ا ہے۔ نیز انہوں نے ایک اور روایت بجائے صفوان بن امیہ یعلی بن امیہ سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جب میرے ایلچی تمہارے ب پاس آئیں تو انہیں تھیں زر ہیں دے دی جائیں ۔ میں نے کہا: يَا رَسُولَ اللهِ أَعَارِيَةً مَّضْمُونَةً أَوْ عَارِيَةً مُؤَدَّاةً۔ کیا یہ با ضمانت مستعار لی جا رہی ہیں یا ویسے ہی واپس دی جان مادی جائیں گی تو آپ نے فرمایا: بَلْ مُؤَدَّاةٌ یعنی واپس دی جائیں گی ہے مستعار کے متعلق جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ضائع ہونے پر نقصان پورا کیا جائے گا۔ مستعار لینے والا اس کا ضامن ہے۔ مالکیوں اور حنفیوں کے نزدیک ضامن اسی صورت میں ذمہ دار ہوگا اگر یہ ثابت ہو کہ اس کی غفلت سے مستعار شئے تلف ہوئی ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحه ۱۸۳۰۱۸۲) ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۹۶) مشار الیہ روایات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی شرائط کے مطابق نہیں اور انہوں نے مذکورہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ علی نے حضرت ابوطلحہ کا گھوڑا واپس کرتے ہوئے فرمایا کہ دریا کی کی روانی رکھتا ہے۔ وہ : زخمی ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اُس کا نام مندوب (یعنی مجروح ) رکھا گیا ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ (۱۸) یہ روایت کتاب الجہاد میں بھی آئے گی۔ شارحین نے یہاں مستعار شئے سے متعلق مفصل بحث کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا قیاس امانت پر کیا جائے گا۔ امین کی غفلت سے امانت ضائع ہونے پر امین ذمہ دار ہوگا۔ مگر عنوان باب کے اسلوب سے ظاہر ہے کہ امام موصوف نے یہ باب عمری کی نوعیت واضح کرنے کی غرض سے قائم کیا ہے کہ وہ ایک عطیہ ہے نہ مستعار شئے یا امانت۔ اسی طرح اگلا باب بھی۔ صل الله ابی داؤد، کتاب البیوع، باب في تضمين العارية) (ترمذی، كتاب البيوع، باب ما جاء في أن العارية مؤداة) (صحیح ابن حبان، كتاب العارية، ذكر حكم العارية والمنحة) (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب في تضمين العارية (سنن الكبرى للنسائي، كتاب العارية، باب تضمين العارية، ذكر اختلاف شریک و اسرائیل)