صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 674 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 674

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۷۴ ۱ ۵ - كتاب الهبة رہتا۔ وہ ایک ہبہ ہے جس میں رجوع نہیں کیا جاسکتا۔ صحاح ستہ کی روایات گوان میں خفیف لفظی اختلاف ہے مگر مفہوما اسی امر پر متفق ہیں اور امام ابن حجر کے نزدیک امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان بھی جمہور کے مذہب کی طرف ہے جس کی تائید میں زیر باب دو روایتیں نقل کی ہیں۔ وَقَالَ عَطَاء: روایت نمبر ۲۶۲۶ کے آخر میں عطاء ابن ابی رباح کے قول کا جو حوالہ دیا ہے یہ ابو نعیم نے مستخرج میں نقل کیا ہے۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۹۵) اور امام مسلم نے بھی قتادہ کی روایت سے اسے درج کیا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں: الْعُمْرَى مِيْرَاتٌ لِأَهْلِهَا ۔ (صحيح مسلم، کتاب الهبات، باب العمری) عمر ( موهوب له ) کے گھر والوں کے لیے بطور وراثت ہے۔ بَاب ٣٣ : مَنِ اسْتَعَارَ مِنَ النَّاسِ الْفَرَسَ جس نے لوگوں سے گھوڑا عاریہ مانگا ٢٦٢٧ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۲۶۲۷ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ : کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت كَانَ فَزَعَ بِالْمَدِينَةِ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ کی ۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس سے سنا، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا مِنْ کہتے تھے مدینہ میں گھبراہٹ ہوئی تونبی صلی الہ علیہ وسلم أَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ الْمَنْدُوبُ فَرَكِبَهُ نے حضرت ابوطلحہ سے ایک گھوڑا عاریہ لیا جو مندوب کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ آپ اُس پر سوار ہوئے ۔ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ: مَا رَأَيْنَا مِنْ شَيْءٍ وَإِنْ جب واپس آئے تو آپ نے فرمایا: ہم نے تو کچھ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا۔ نہیں دیکھا اور اس گھوڑے کو تو ایک دریا پایا۔ اطرافه: ۲۸۲۰، ٢٨٥٧ ، ٢٨٦٢، ٢٨٦٦، ۲٨٦٧، ۲۹۰۸، ٢٩٦٨، ٢٩٦٩، ٣٠٤٠، ٦٠، ٦٢١٢۳۳ تشريح : مَنِ اسْتَعَارَ مِنَ النَّاسِ الْفَرَسَ : عارية عارضی استفادہ کی نئے پر اطلاق پاتا ہے۔ لفظ عَادَ سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں ذَهَبَ وَجَاءَ یعنی گیا اور آیا۔ اسی سے لفظ تَعَاوُرٌ ( باب تفاعل ) ہے؛ جس کے معنی تَنَاوُب کے ہیں، یعنی باری باری سے آنا جانا اور تناوب کے معنی ہیں نوبت بنوبت چکر لگانا۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۹۶) مستعار شئے کبھی اس کے کام آتی ہے اور کبھی اس کے ، اس لئے اُسے عاریة کہتے ہیں۔ یہ باب سابقہ باب ہی کے تعلق میں اس غرض سے قائم کیا گیا ہے کہ عمری کے درمیان اور عاریہ کے درمیان فرق کی طرف توجہ دلائی جائے کہ مستعار شئے مالک کو لوٹتی ہے اور عمرٹی والی شئے نہیں لوٹتی۔ ابوداؤد نے ابو امامہ کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے حجۃ الوداع