صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 673 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 673

صحيح البخاری جلدم ۶۷۳ ۱ ۵ - كتاب الهبة ترتیب محوظ رکھی گئی ہے۔عمری ابن سیدہ لغوی کے نزدیک عمر سے مشتق ہے اور مصدر ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحہ ۱۷۸) امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بحوالہ آیت کریمہ هُوَ أَنْشَاكُمُ مِنَ الْأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا۔(هود:۱۲) عُمرَان (بمعنی آبادی ) سے مشتق بتایا ہے۔دونوں کا اشتقاق کی رُو سے مفہوم یہی ہے کہ عمر بھر رہنے کے لئے کسی کو مکان وغیرہ دینا۔جمہور نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ اگر اَعْمَرَهُ الدَّارَ کی جگہ اَسْكَنْتُ الدَّارَ کہا جائے تو لفظ اسگان سے عمری کا مفہوم پیدا نہیں ہوگا۔علامہ ابن رشد نے یہ رائے قبول نہیں کی۔اُن کے نزدیک معنا مفہوم ایک ہی رہے گا۔اسی اختلاف کی وجہ سے عنوانِ باب میں آیت سے استدلال کیا گیا ہے کہ لفظ استعمار کا مفہوم بھی آباد کرنا ہے۔مشار الیہ تفسیر ابوعبیدہ کی ہے۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۹۴۷۲۹۳) ( بداية المجتهد كتاب الهبات القول في أنواع الهبات، جزء ۲ صفحه۲۴۹) رقبلی کا مفہوم بھی یہی ہے۔عمری اور رقبی سے متعلق احکام میں فرق نہیں۔رقبی کا اشتقاق مراقبہ سے ہے۔انتظار کرنا، نگرانی کرنا۔زمانہ جاہلیت میں کسی کو سکونت کے لئے تاحین حیات مکان دیا جاتا تو انتظار کیا جاتا کہ کب رہنے والا یا دینے والا مرے اور مکان پر قبضہ ہو۔روایات زیر باب میں رقبی کا ذکر نہیں مگر عنوان باب میں دونوں لفظ جمع کر دیئے گئے ہیں۔گویا اس طرف اشارہ ہے کہ دونوں لفظ مفہوم ایک ہی ہیں۔اس بارے میں جمہور کا مذہب تو یہی ہے کہ مکان یا جائداد جسے عمر بھر کے لئے دیا جائے ، طول سکونت کی وجہ سے اس کی ملکیت ہو جاتا ہے اور دینے والے کو نہیں کو تا سوائے اس صورت کے کہ دیتے وقت صراحت کر دی گئی ہو کہ موت کے بعد مکان مالک کا ہوگا۔( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۹۳) مَا قِيْلَ فِي الْعُمْرَى : ان الفاظ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصود صحاح ستہ کی متضاد روایتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے۔فقہاء میں سے ایک فریق وہ بھی ہے جو حدیث لا عُمْرَى وَلَا رقبی سے اس کے عدم جواز کے بارے میں استدلال کرتا ہے۔جیسا کہ امام ابن حجر نے اس سے متعلق ابوالطیب اور ماوردی کا حوالہ دیا ہے۔امام داد والظاہری رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے ہم خیال اس کی صحت تسلیم نہیں کرتے۔گو ابن حزم رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک جو فرقہ ظاہری کے امام مانے گئے ہیں، عمری کی صحت مسلم ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۹۳) صحاح ستہ کی روایات کے لئے عمدۃ القاری جز ۱۳۶ صفحہ ۱۸۰،۱۷۹ دیکھی جائے۔ان میں سے صحیح مسلم کی ایک روایت قابل ذکر ہے جو بواسطہ ابوز بیر حضرت جابر سے مرفوعاً مروی ہے: (قَالَ اَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُفْسِدُوْهَا فَإِنَّهُ مَنْ اَعْمَرَ عُمْرَى فَهِيَ لِلَّذِي أَعْمِرَهَا حَيًّا وَّمَيْتًا وَلِعَقِبِهِ۔(صحيح مسلم، کتاب الهبات، باب العمری اپنے مالوں کو اپنے پاس رکھو، انہیں برباد نہ کرو کیونکہ جس نے انہیں بطور عمری دیا تو وہ زندگی میں اور موت کے بعد اسی کا ہوگا، جس نے اسے آباد رکھا۔اسی وجہ سے عطاء بن ابی رباح، امام ابوحنیفہ، امام سفیان ثوری اور امام شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ نے عمری کو ملکیت تامہ اور مواریث اموال قرار دے کر قابل وراثت کیا ہے۔جن روایتوں میں لَا عُمْرَى فَمَنْ أَعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ۔وارد ہوا ہے۔اس ارشاد نبوی سے بھی مراد یہی ہے کہ آپ نے جب دیکھا کہ انصار مہاجرین کو عمر لی اور رقبی کے پرانے طریق پر جائیدادیں اس خیال سے دے رہے ہیں کہ ان سے رجوع کیا جا سکتا ہے تو آپ نے ان کو روک دیا اور فرمایا کہ عمری میں مالک کا حق ملکیت نہیں ☆ ؟ (سنن النسائی، کتاب العمرى، باب ذكر الاختلاف يحي بن أبي كثير ومحمد بن عمرو على أبي سلمة فيه)