صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 672 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 672

صحيح البخاری جلدم باب ۳۲ : مَا قِيْلَ فِي الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى عمری اور رقیبی کے متعلق جو احادیث بیان کی گئی ہیں ۱ ۵ - كتاب الهبة أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهِيَ عُمْرَى جَعَلْتُهَا ( عرب کہتے ہیں: ) میں نے اسے یہ گھر عمر بھر کے لئے لَهُ اسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا (هود: ٦٢) دے دیا اور ایسے طور پر دیا ہوا گھر عمر می کہلاتا ہے، یعنی اس گھر کو اس کی ملک میں کر دیا اور سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ جَعَلَكُمْ عُمَّارًا۔فرماتا ہے تمہیں اس زمین کو آباد کرنے والا بنایا۔٢٦٢٥: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے تجي ( ابن ابی کثیر ) سے سجی جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَضَى النَّبِيُّ نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَى أَنَّهَا سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمری سے متعلق فیصلہ فرمایا کہ وہ اسی کا ہے جسے لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ۔حَدَّثَنَا ۲۶۲۵ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے دیا گیا تھا۔٢٦٢٦ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۲۶۲۶ حفص بن عمر نے ہمیں بتایا کہ ہمام نے حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ: حَدَّثَنِي ہم سے بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا، کہا: نضر بن النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ بَشِيْرِ بْنِ نَهِيْكَ انس نے بشیر بن نہیک سے، بشیر نے حضرت عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرۃ نے نبی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ۔عمری ( یعنی عمر بھر کے لئے کسی کو گھر دینا) جائز ہے۔وَقَالَ عَطَاءٌ : حَدَّثَنِي جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ اور عطاء بن ابی رباح) نے بھی کہا کہ حضرت جابر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔مِثْلَهُ۔نے مجھے بتایا کہ نبی عے سے اس طرح مروی ہے۔تشریح: تن ٢٠٠ مَا قِيْلَ فِي الْعُمْرَى وَالرُّقْبَى: صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں سابقہ تسلسل ہی میں عمری کے باب قائم ہیں اور بعض میں الگ۔امام ابن حجر نے تسلسل قائم رکھا ہے اور اس شرح صحیح بخاری میں انہی کی