صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 671
صحيح البخاري - جلد ۴ ۶۷۱ ۱ ۵ - كتاب الهبة باب ۳۱ ٢٦٢٤: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ ۲۶۲۴: ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَنَّ ہشام بن یوسف نے ہمیں خبر دی کہ ابن جریج نے ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ قَالَ : أَخْبَرَنِي انہیں بتایا۔ کہتے تھے : عبد اللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ نے مجھے بتایا کہ ابن جدعان کے آزاد کردہ غلام صہیب أَنَّ بَنِي صُهَيْبٍ مَوْلَى بَنِي جُدْعَانَ کے بیٹوں نے خواب گاہ کے دو کمروں اور ایک کوٹھڑی ادَّعَوْا بَيْتَيْنِ وَحُجْرَةً أَنَّ رَسُولَ اللهِ کا دعویٰ کیا ۔ اس بنا پر بنا پر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ☆ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى ذَلِكَ نے یہ صہیب کو دیتے تھے تو مروان نے کہا: تمہارے لئے اس بات کی کوئی گواہی دے گا ؟ انہوں نے کہا: صُهَيْبًا فَقَالَ مَرْوَانُ: مَنْ يَشْهَدُ لَكُمَا ( حضرت عبداللہ بن عمر مروان نے ان کو بلایا اور عَلَى ذَلِكَ قَالُوا: ابْنُ عُمَرَ، فَدَعَاهُ انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فَشَهِدَ لَأَعْطَى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ نے صہیب کو یقیناً دو سونے کے کمرے اور ایک عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُهَيْبًا بَيْتَيْنِ وَحُجْرَةً کوٹھڑی دی تھی۔ چنانچہ مروان نے حضرت عبد الله فَقَضَى مَرْوَانُ بِشَهَادَتِهِ لَهُمْ۔ کی شہادت کی بناء پر ان کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ یہ باب ہے بطور اہے اور بطور فصل ہے اور سابقہ مضمون کے تسلسل میں ہے۔ ہبہ - میں ہے۔ ہبہ سے رجوع کے تعلق میں را والا بھی لایا کہ کیا واہ کی موت کے بعد ہی رجوع کیا جاتا ہے یاد علی حالہ اٹھایا ہے موہور ہبہ سے قائم رہے گا اور وارثوں کا حق ہوگا ۔ فقہاء کا عدم رجوع پر اتفاق ہے۔ احناف نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ موت کے بعد رجوع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور دوسروں کے نزدیک اس لئے کہ زندگی میں بھی رجوع کا سوال مطلق قابل اعتناء نہیں، چہ جائیکہ موت کے بعد ۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۳ صفحہ ۱۷۶) صلى الله فَشَهِدَ لَاعْطَى رَسُولُ اللهِ لا صُهَيْبًا بَيْتَيْنِ وَحُجْرَةً: : حضرت صہیب رضی اللہ رضی اللہ عنہ کی اسیری و غلامی کا واقعہ کتاب البیوع باب ۱۰۰ اروایت نمبر ۲۲۱۹ میں دیکھئے۔ عمر بن شبہ نے مدینہ کے حالات میں ذکر کیا ہے کہ حضرت صہیب کو حضرت ام سلمہ کی طرف سے باجازت آنحضرت ﷺ ایک مکان بطور ہبہ دیا گیا تھا۔ ان کی وفات پر ان کے بیٹوں نے دعوی کیا اور مروا وں نے دعوی کیا اور مروان بن حکم نے جوا نے جو امیر مدینہ تھے شہادت لے کر اُن کے حق میں فیصلہ کیا۔ اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے ک ی ظاہر ہے کہ موت کے بعد ہبہ قائم رہتا ہے۔ ( اہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۹۳) (عمدۃ القاری جزء ۳۰ صفحه ۱۷۷) عمدۃ القاری کے مطابق اس جگہ ”ابْنِ جُدْعَانَ" کے الفاظ ہیں۔ (عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحہ ۱۷۶) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔