صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 670
صحيح البخاری جلدم ۶۷۰ ۱ ۵ - كتاب الهبة عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ سے عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لَنَا روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مَثَلُ السَّوْءِ الَّذِي يَعُوْدُ فِي هِبَتِهِ فرمایا: ہماری مثال اُس بُرے شخص کی سی نہیں جو اپنے ہبہ سے پھرتا ہے، جیسے کتا قے کر کے چاہتا ہے۔كَالْكَلْبِ يَرْجِعُ فِي قَيْنِهِ۔اطرافه: ۲۸۹، ۲۶۲۱، ۱۹۷۱ سے، ٢٦٢٣: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ :۲۶۲۳: يحيی بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زید بن اسلم - أَبِيْهِ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ میں نے اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسٍ فِي حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے : سَبِيْلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُ میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے لئے دیا تو جس کے پاس وہ تھا اس نے اس کو خراب کر دیا۔فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ مِنْهُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ اس لئے میں نے چاہا کہ اس سے وہ خرید لوں اور میں بَائِعُهُ بِرُخُص فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ نے خیال کیا کہ وہ اس کوستا ہی فروخت کرے گا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَا تَشْتَرِهِ میں نے اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَم وَاحِدٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ تو آپ نے فرمایا: اسے نہ خریدیں اگر چہ وہ تمہیں فِي صَدَقَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْنِهِ۔ایک درہم پر ہی کیوں نہ دے کیونکہ اپنے صدقہ میں کو ٹنے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی تے چاہتا ہے۔اطرافه: ١٤٩٠، ٢٦٣٦، ۲۹۷۰، ۳۰۰۳ تشریح : لَا يَحِلُّ لَاحَدٍ أَنْ يُرْجِعَ فِي هِيَتِهِ وَصَدَقَتِهِ: زریاب مندس تقلق فقہاء کے اختلاف کا ذکر گزر چکا ہے اور وہاں بتایا گیا ہے کہ قطع نظر اس سے کہ والد کا بیٹے پر کیا حق ہے ، ہبہ سے رجوع کرنا جائز نہیں۔اس باب میں یہ مسئلہ من حیث الاطلاق بیان ہوا ہے۔حضرت عمر کا واقعہ انتہائی احتیاط پر مبنی ہے۔فتویٰ اور تقویٰ میں فرق ہے۔