صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 667 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 667

صحيح البخاری جلدم ۶۶۷ ۵۱ - كتاب الهبة کے منکر ہیں جو تمہاری طرف آیا ہے، وہ تم کو بھی اور رسول کو بھی صرف اس لئے کہ تم سب اللہ پر جو تمہارا رب ہے ایمان لائے ہو گھروں سے نکالتے ہیں۔ان آیات پر یکجائی نظر ڈالنے سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام نے صرف مخصوص حالات عداوت و جنگ میں عدم موالات کا حکم دیا ہے۔عام حالات میں غیر قوموں سے نیک تعلقات استوار کرنے کی ہدایت کی ہے اور غیر مسلم افراد از روئے تعلیم اسلامی معاشرہ اسلامیہ کے قابل عزت و احترام افراد ہیں۔ان کے ساتھ نیک سلوک کرنا مقدس واجبات میں سے ہے۔آنحضرت علی ، خلفائے راشدین ، صحابہ کرام اور بعد کے مسلمانوں کو غیر مسلم اقوام عیسائیوں اور یہودیوں اور زرتشتیوں وغیرہ سے تمدنی اُمور میں تعاون اور ان پر اعتماد رہا ہے اور اس کی مثالیں بکثرت تاریخ میں موجود ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مدینہ منورہ میں تشریف لانے پر بلا تمیز ملت و مذہب ایک معاہدہ لکھوایا، جس کے یہ الفاظ ہیں: وَأَنَّهُ مَنْ تَبِعَنَا مِنْ يَهُودٍ فَإِنَّ لَهُ النَّصْرُ وَالْأَسْوَةُ الْمُسَاوَاةُ) غَيْرُ مَظْلُومِيْنَ وَلَا مُتَنَاصِرٍ عَلَيْهِمْ۔۔۔۔لِلْيَهُودِ دِينَهُمْ وَلِلْمُسْلِمِينَ دِينُهُمْ مَوَالِيْهِمْ وَأَنْفُسُهُمْ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ وَاَئِمَ۔۔۔وَإِنَّ بَيْنَهُمُ النُّصْحَ وَالنَّصِيْحَةَ وَالبِرَّ دُونَ الإِثْم یعنی جو یہودی اس معاہدے میں ہمارے ساتھ شریک ہیں ان کی نصرت کی جائے گی اور ان سے مساوات کا سلوک ہوگا۔ان پر ظلم نہ ہونے دیا جائے گا اور نہ ان کے خلاف کسی کی مدد کی جائے گی۔ان کے دوست، رشتہ دار سب اس نیک سلوک کے مستحق ہوں گے، بجز ان کے جنہوں نے ظلم اور گناہ کا ارتکاب کیا۔سب سے خیر خواہی کا سلوک اور نیک برتاؤ ہو گا۔مسلم اپنے مذہب پر اور یہود اپنے مذہب پر عمل کریں گے۔یہ تاریخی میثاق ہے جو ابدی شہادت ہے، اس امر پر کہ اسلامی معاشرہ وسیع بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے۔اس تعلق میں مزید کتاب البیوع باب ۲۸ ، باب ۱۰۰ بھی دیکھئے۔جن لوگوں نے محولہ بالا آیت لَا يَنْهكُمُ وغیرہ سے استدلال کیا ہے کہ غیر مسلموں پر امور مملکت میں اعتماد کرنا خلاف منشاء شریعت ہے، حالانکہ نہ انہوں نے کلمہ حصر انما پر نظر کی ہے اور نہ سیاق کلام پر غور ، اور نہ ان کے سامنے دوسری آیات ہیں جن میں عدل و انصاف، تعاون اور نیک سلوک پر زور دیا گیا ہے اور نہ اُسوہ نبویہ کا مطالعہ ہے اور نہ تاریخ اسلامی سے مس۔ایک عالم تاریخ ایسا استدلال کبھی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ صریح البطلان ہے۔حضرت عمر کی مالیات سے متعلقہ کمیٹی کے ممبر عیسائی اور زرتشتی بھی تھے۔(کتاب الخراج) اور حضرت امیر معاویہ کے زمانے میں حمص کے عامل ( گورنر ) ابن اخطل عیسائی تھے۔قرآن مجید نے عدل قائم رکھنے کی ان واضح الفاظ میں تاکید فرمائی ہے : تأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُوْنُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَنْ لَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى وَاتَّقُوا اللهَ ط إِنَّ اللَّهَ خَيْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (المائدة: 9) معاشرہ کے افراد کو عقیدہ کے اختلاف کی بناء پر معاملات تمدنی اور السيرة النبوية لابن هشام، هجرة الرسول ، كتابه الله بين المهاجرين والأنصار وموادعة يهود، جزء اول صفحه ۵۰۲) (الروض الأنف، كتاب الموادعة لليهود، جزء ثانی صفحه ۳۴۵)