صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 666
صحيح البخاري - جلدم ۶۶۶ ۱ ۵ - كتاب الهبة عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ الله سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عَنْهُمَا قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ، مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى الله کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ ابھی مشرک ہی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّ أُمِّي تھیں۔میں نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا۔قَدِمَتْ وَهِيَ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُ أُمِّي؟ قَالَ: میں نے کہا: میری والدہ شوق سے میرے پاس آئی ہیں۔کیا میں ان سے نیک سلوک کروں؟ آپ نے نَعَمْ صِلِي أُمَّكِ۔اطرافه: ۳۱۸۳، ۵۹۷۸، ۵۹۷۹ فرمایا: ہاں۔اپنی والدہ سے نیک سلوک کرو۔تشریح : الْهَدِيَّةُ لِلْمُشْرِكِيْنَ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى لَا يَنْهَكُمُ اللَّهُ۔آییت محوله بالایه ہے: لَا يَنْهَكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الذِيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ، إِنَّمَا يَنكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَنْ تَوَلَّوْهُمْ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ۔(الممتحنه: ۱۰۹) اللہ تم کو ان لوگوں سے نیکی کرنے اور عدل کا معاملہ کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے نہیں لڑے اور جنہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اللہ تم کو صرف ان لوگوں سے ( دوستی کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے جنگ کی اور جنہوں نے تم کو گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر تمہارے دوسرے دشمنوں کی مدد کی اور جو لوگ بھی ایسے لوگوں سے دوستی کریں وہ ظالم ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے: لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَ هُمْ أَوْ أَبْنَاءَ هُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيْرَتَهُمْ (المجادله :۲۳) تو ایسی کوئی قوم نہ پائے گا جو اللہ اور یوم آخر پر بھی ایمان لاتی ہو اور اللہ اور اس کے رسول کی شدید مخالفت کرنے والے سے بھی محبت رکھتی ہو خواہ ایسے لوگ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ہوں یا بھائی ہوں یا ان کے خاندان میں سے ہوں۔علامہ ابن حجر نے حاد کے معنے قائل کئے ہیں ، یعنی لڑے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۸۷) اسی طرح یہ آیت بھی مخصوص دشمنوں سے متعلق ہے : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوّى وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمُ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَ كُم مِّنَ الْحَقِّ : يُخْرِجَوْنَ الرَّسُوْلَ وَإِيَّاكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ - (الممتحنة: ٢) اے مومنو! میرے اور اپنے دشمنوں کو گہرا دوست نہ بنایا کرو تم تو ان کی طرف محبت کے پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ وہ اس حق