صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 668 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 668

صحيح البخاری جلدم YYA ۵۱ - كتاب الهبة امور سلطنت میں شریک ہونے سے محروم رکھنا قطعی طور پر عدل و انصاف کے منافی ہے۔رہے مذہبی امور تو ان میں ہر مذہب کو اسلامی تعلیم کی رو سے آزادی ہے۔جیسا کسی کا مذہب ہو عمل کرے اور جو قانون اپنے لئے مناسب سمجھے، اختیار کرے۔اس بارہ میں بھی قرآن مجید کا ارشاد واضح ہے، فرماتا ہے: وَليَحْكُمُ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (المائدہ: ۴۸) اہل انجیل کو چاہیے کہ اللہ نے جو کچھ اس میں نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں اور جو لوگ اس کلام کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی بد عہد اور نافرمان ہیں۔سورہ مائدہ کی اس آیت سے ماقبل آیت میں تو رات کی تعلیم اور اس کے مابعد کی آیت میں قرآن مجید کی تعلیم سے متعلق بھی یہی ارشاد ہے کہ یہودیوں کو تورات کے مطابق فیصلے کرنے چاہیں۔چنانچہ اسلامی حکومت میں عیسائیوں کے مقدمات کے فیصلہ جات خالص مذہبی عدالتیں صادر کرتی تھیں اور عثمانی حکومت انہیں اپنے فوجی ادارہ کے ذریعے نافذ کرتی تھی۔مشہور جرمن مستشرق ونڈن برگ نے اس امر کا اعتراف جن الفاظ میں کیا ہے ان کا ترجمہ یہ ہے کہ اسلام کی رو سے ہر قسم کی عمومی شخصی آزادی اور خاص کر مذہبی امور سے متعلق آزادی ذمیوں کا مقدس حق سمجھا جاتا تھا۔اسی طرح ہاؤس لکھتے ہیں: ذمی لوگ اسلامی حکومت میں اپنے مذہبی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے کرانے میں پورے طور پر آزاد تھے۔تنازعات میں اگر کوئی دوسرا فریق مسلمان نہ ہوتا تو ذمی اپنے خاص ضابطہ قانون کے مطابق فیصلہ کیا کرتے تھے۔اسلامی حکومت انہی میں سے ایک شخص کو بطور نمائندہ مقرر کر دیا کرتی تھی جو اُن کے درمیان فیصلہ کیا کرتا تھا خواہ یہ تنازعات مدنی حقوق سے متعلق ہوں یا تعزیرات کی قسم سے۔یہ آزادی ان کو یہاں تک دی گئی کہ ترکی سلطان محمد فاتح قسطنطنیہ کے عہد سلطنت میں مذہبی سردار اعلیٰ کو اجازت دی گئی تھی کہ وہ اپنا محکمہ قائم کرے۔اسے اپنے ضابطہ قوانین کے مطابق قید کرنے ، جلاوطنی اور بدنی سزائیں جاری کرنے کا پورا پورا اختیار تھا، بلکہ اسلامی حکومت کے فوجی ادارے کا یہ فرض قرار دیا گیا تھا کہ اس کے فیصلہ جات کا نفاذ کرے۔الغرض ما حصل ان آیات کا یہ ہے کہ ایسی دشمن قوم سے جو برسر پیکار ہو، دوستی کے تعلقات قائم کرنا نہایت مخدوش امر ہے۔پہلی آیت غیر مسلموں کے ساتھ عمدہ تعلقات رکھنے ، عدل و انصاف برتنے سے متعلق عام حکم پر مشتمل ہے اور دوسری کا تعلق جنگی حالات سے ہے، جو عام حکم کی ایک خاص استثنائی صورت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا عمل دونوں حکموں کے مطابق تھا اور یہی امر ذہن نشین کرانے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔وَهِيَ رَاغِبَةٌ خواہش اور شوق سے آئی ہیں۔بعض نے اس میں یہ اشارہ سمجھا ہے کہ وہ اسلام کی طرف رغبت رکھتی ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی والدہ قتیلہ بنت عبدالعزیٰ کو بوجہ اس کی مخالفت کے طلاق دے دی تھی اور بعد میں اس کا اسلام قبول کرنا ثابت نہیں۔(فتح الباری جزء۵ صفحه ۲۸۷، ۲۸۸) ایام ہدنه (عارضی صلح ) میں وہ اپنی بیٹی حضرت اسماء کو ملنے آئیں اور غالباً اس وجہ سے حضرت اسماء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم