صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 664 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 664

صحيح البخاری جلدم تشریح: ۶۶۴ ۵۱ - كتاب الهبة قَبُولُ الْهَدِيَّةِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ : عامر بن مالک المعروف ملاعب الأسنہ سے متعلق بعض روایتیں ہیں کہ اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ پیش کیا جو آپ نے یہ کہتے ہوئے رد فرمایا: انٹی کا اَقْبِلُ هَدِيَّةَ مُشْرِک میں مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔یہ روایت موسی بن عقبہ نے کتاب المغازی میں نقل کی ہے جو مرسل اور غیر مستند ہے۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۸۳) اسے رڈ کرنے کی غرض سے عنوان باب میں بعض اور روایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس کے تحت مستند روایات درج کی گئی ہیں جو اپنے مفہوم میں واضح ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف غیر مسلموں کا ہدیہ ہی قبول فرمایا کرتے تھے بلکہ انہیں ہدیہ دیا بھی کرتے تھے۔عنوانِ باب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت ہاجرہ بطور ہدیہ ملنے کا جو واقعہ مختصر ا مذکور ہے وہ کتاب البیوع باب ۰۰ اروایت نمبر ۲۲۱۷ میں دیکھئے۔زہر آلود بکری کے ہدیہ کا واقعہ اسی باب کی روایت نمبر ۲۶۱۷ میں درج ہے اور ابوحمید کے قول کا حوالہ کتاب الزکواۃ باب ۵۴ روایت نمبر ۱۴۸ میں دیکھئے اور سعید بن ابی عروبہ کی محولہ بالا روایت ( نمبر ۲۶۱۶) امام احمد بن حنبل کے نے نقل کی ہے۔زیر باب روایت نمبر ۲۶۱۵ کے آخر میں ان کی روایت کا حوالہ دینے سے غرض دراصل حضرت انس کی روایت کی وضاحت ہے جو مجمل ہے، یعنی سندی ریشمی جوڑا اگنیدر دومتہ الجندل کی طرف سے پیش کیا گیا ہے۔اگنی در تصغیر ہے اگڈز کی جو اسم علم ہے۔اکیدر بن عبدالملک بن عبد المجن کندی دومتہ الجندل کا عیسائی سردار تھا اور دومتہ الجندل تبوک کے قریب مدینہ اور دمشق کے درمیان واقع ہے۔مدینہ سے دس پڑاؤ اور دمشق سے آٹھ پڑاؤ۔بہت سرسبز علاقہ تھا اور اب بھی سرسبز ہے۔أکیدر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جزیہ ادا کرنے پر صلح کی تھی۔(فتح الباری جزء۵ صفحه۴ ۲۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی ریشمی کپڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔جس کا ذکر زیر باب ۲۷ روایت نمبر ۲۶۱۴ میں اوپر گزر چکا ہے۔روایت نمبر ۲۶۱۷ جو عنوان باب میں بھی بطور حوالہ نقل کی ہے۔اس سے یہ مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف مشرکوں، عیسائیوں اور یہودیوں سے ہدا یا قبول فرمائے بلکہ دشمن بر سر پر کار قوم سے تعلق رکھنے والی عورت سے بھی ہدیہ قبول فرمایا ہے اور آپ نے غیر مسلموں کو بھی ہدایا بھیجے۔(دیکھئے اگلا باب ) اسی طرح معاشرہ بشریہ کے افراد سے نیک تعلقات قائم رکھنے میں ایک عمدہ نمونہ پیش فرمایا ہے۔بَابِ ۲۹: الْهَدِيَّةُ لِلْمُشْرِكِيْنَ مشرکوں کو تحفہ بھیجنا وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: لَا يَنْصُكُمُ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اللہ تمہیں ان لوگوں سے نیکی اللهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ کرنے اور ان کے ساتھ عدل کرنے سے نہیں روکتا (مصنف عبد الرزاق، كتاب أهل الكتابين، باب هدية المشرک، جزء اصفحه ۴۴۶) (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند أنس بن مالک، جز ۳۶ صفحه ۲۳۴۲۰۶)