صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 662
صحيح البخاری جلدم ۶۶۲ ۱ ۵ - كتاب الهبة قَالَ: أَهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: نبی وَسَلَّمَ جُبَّةٌ سُنْدُسٍ وَكَانَ يَنْهَى عَنِ صلی اللہ علیہ وسلم کو باریک ریشمی کپڑے کا ایک چوغہ الْحَرِيرِ فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا فَقَالَ: تحفہ دیا گیا اور آپ ریشمی کپڑے پہننے سے منع فرمایا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَنَادِيْلُ کرتے تھے۔وہ کپڑا دیکھ کرلوگوں کو تعجب ہوا۔آپ نے فرمایا: اُسی ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد کی سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا۔اطرافه: ٢٦١٦، ٣٢٤٨۔جان ہے سعد بن معاذ کے تو رومال جنت میں اس سے زیادہ خوبصورت ہوں گے۔٢٦١٦ : وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ :۲۶۱۶ اور سعید ( بن ابی عروبہ ) نے قتادہ سے، عَنْ أَنَسٍ إِنَّ أُكَيْدِرَ دُوْمَةَ أَهْدَى إِلَى قاده نے حضرت انس سے روایت کی کہ دومۃ الجندل النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔کے اکیدر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ بھیجا تھا۔اطرافة: ٢٦١٥ ، ٣٢٤٨ ٢٦١٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۲۶۱۷: عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہمیں بتایا کہ خالد عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ بن حارث نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ انہوں نے ہشام بن زید سے، ہشام نے حضرت انس الله بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زہر آلودہ بکری لائی۔آپ نے اس میں سے کچھ کھایا، { پھر اس زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ عَنْهُ: أَنَّ يَهُوْدِيَّةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ مَّسْمُوْمَةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا عورت کو لایا گیا } (آپ سے ) دریافت کیا گیا: {فَجِيْءَ أَنَّهَا } فَقِيْلَ : أَلَا تَقْتُلُهَا؟ قَالَ: کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔لَا فَمَا زِلْتُ أَعْرِفُهَا فِي لَهَوَاتِ حضرت انس کہتے تھے: ) میں نے ہمیشہ محسوس کیا رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔کہ اس زہر کا اثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تالوؤں میں ہے۔الفاظ " فَجِي ءَ بها فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحه ۲۸۳) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔