صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 661
صحيح البخاری جلدم पाषा ۱ ۵ - كتاب الهبة کے بطور ہدیہ دیئے جانے کا ذکر ہے۔بعض فقہاء کے نزدیک ایسے کپڑوں کا ہدیہ دیا جانا مکروہ ہے لیکن یہ کراہت تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی۔مَالِي وَلِلدُّنْيَا : مندرجہ روایات سے جواز کی صورت واضح ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کے لئے پسند نہیں فرمایا کہ وہ ظاہری زینت اور نمائش کی طرف مائل ہوں۔جیسا کہ الفاظ مَالِي وَلِلدُّنیا سے ظاہر ہے۔آپ کی بے رغبتی اور ظاہری آرائش سے پر ہیز کا عملی نمونہ عدیم المثال ہے۔یہی مقدس نمونہ آپ اپنے اہل بیت میں دیکھنا پسند فرماتے تھے۔اس تعلق میں روایات زیر باب ۱۶، ۱۷ بھی دیکھئے۔باب ۲۸: قَبُولُ الْهَدِيَّةِ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ مشرکوں سے ہدیہ قبول کرنا وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اور حضرت ابو ہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَاجَرَ إِبْرَاهِيْمُ عَلَيْهِ ہوئے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ کو لے کر وطن سے ہجرت کر گئے اور ایک ایسی بستی میں السَّلَامُ بِسَارَةَ فَدَخَلَ قَرْيَةً فِيْهَا مَلِكٌ داخل ہوئے جس میں ایک بادشاہ یا فرمایا ایک ظالم أَوْ جَبَّارٌ فَقَالَ: أَعْطُوهَا آجَرَ شخص تھا۔(اس نے حضرت سارہ کو بلا کر دست درازی وَأُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرنا چاہی لیکن اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے فوری گرفت ہوئی۔) اس نے کہا: ہاجرہ سارہ کو دے دو شَاةٌ فِيْهَا سُمٌ۔اور اسے جلدی یہاں سے نکالو۔اور نبی عمل ل للل ایک بکری تحفہ میں دی گئی جوز ہر آمیز تھی۔وَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ اور ابوحمید نے کہا: ایلہ کے بادشاہ نے نبی صلی اللہ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً علیہ وسلم کے لئے ایک سفید خچر بطور تحفہ بھیجا۔آپ نے بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدًا وَكَتَبَ إِلَيْهِ بھی اس کو ایک چادر بھیجی اور وہاں کے سمندر کی بابت بِبَحْرِهِمْ۔ایک سند لکھ دی کہ وہ اس میں کاروبار کر سکتا ہے۔٢٦١٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۲۶۱۵ عبد اللہ بن محمد نے ہمیں بتایا کہ یونس بن حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ محمد نے ہم سے بیان کیا کہ شیبان نے ہمیں بتایا۔قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے قتادہ سے روایت کی ، ( کہا: ) حضرت انس عَنْ