صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 659
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۵۹ ۱ ۵ - كتاب الهبة وَقَالَ الْحُمَيْدِي ۔۔۔۔۔۔ ابو نعیم نے مستخرج میں موصولاً یہ قول روایت کیا ہے۔ (فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۸۰) دستبرداری سے دوسرے کا قبضہ ہو جانے کے تعلق میں حمیدی کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ باب ۲۷ : هَدِيَّةُ مَا يُكْرَهُ لُبْسُهَا جو کپڑا پہننا مکروہ ہوا سے بطور تحفہ دینا ٢٦١٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۶۱۲: عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: رَأَى عُمَرُ بْنُ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ کہا: حضرت عمر بن خطاب نے مسجد کے دروازے الْمَسْجِدِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ کے پاس ایک ریشمی دھار کے پاس ایک ریشمی دھاریدار جوڑا ( بکتے ) دیکھا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے خرید لیں اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ اور جمعہ کے دن اور نمائندوں سے ملنے کے وقت پہنا وَلِلْوَفْدِ۔ قَالَ : إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَّا خَلَاقَ کریں تو مناسب ہوگا ۔ آپ نے فرمایا: اسے تو وہی لَهُ فِي الْآخِرَةِ ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَى پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اس کے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بعد چند ریشمی جوڑے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے اُن الله مِنْهَا حُلَّةً فَقَالَ : أَكَسَوْتَنِيْهَا وَقُلْتَ فِي میں سے ایک جوڑا حضرت عمرؓ کو بھی دیا اور حضرت عمر حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ نے کہا: کیا آپ نے یہ مجھے پہنے کو دیا ہے حالانکہ عطارد أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ۔ فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخَا کے جوڑے سے متعلق آپ فرما چکے ہیں جو فرما چکے ہیں۔ تو آپ نے فر نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ اس لئے نہیں لَّهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا۔ دیا کہ تم اسے پہنو۔ چنانچہ حضرت عمر نے اپنے ایک بھائی کو وہ پہننے کے لئے دے دیا جو مکہ میں مشرک تھا۔ اطرافه: ٨٨٦، ٩٤٨، ٢١٠٤ ، ٢٦١٩، ٣٠٥٤ ، 5841، 5981، 6081۔ ٢٦١٣: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ۲۶۱۳ : محمد بن جعفر ابو جعفر نے ہم سے بیان کیا کہ أَبُو جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيْهِ ابن فضیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے،