صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 654
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۵۴ ۱ ۵ - كتاب الهبة کو اس بارہ میں ہے۔ اس کی وضاحت سابقہ باب میں کی جاچکی ہے۔ عنوان باب میں وفد ہوازن کے واقعہ کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ اگلے باب میں دیکھئے اور حضرت جابر کا واقعہ دیکھئے کتاب البیوع باب ۳۴ روایت نمبر ۲۰۹۷۔ دونوں سے مسئلہ معنونہ ثابت ہے۔ احناف کا استدلال اس بارہ میں کمزور ہے کیونکہ مذکورہ بالا واقعات میں شرعی ہبہ کی صورت نہ تھی۔ (عمدة القاری جزء ۱۳ صفحه ۱۶۲) ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۲۷۸) شرعی ہبہ میں قبضہ حقیقی اور قبضہ تقدیری کی اصطلاحیں عہد نبوی کے بعد کی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل معنا ہبہ کی صورت رکھتا ہے یا نہیں۔ باب ٢٤ : إِذَا وَهَبَ جَمَاعَةٌ لِقَوْمٍ اگر ایک جماعت ایک قوم کو ہبہ کرے ٢٦٠٧-٢٦٠٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ۲۶۰۷-۲۶۰۸: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ لیٹ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل بتایا۔ انہوں نے عقیل سے عقیل نے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے عروہ سے روایت کی کہ الْحَكَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ : مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ نے ان کو بتایا کہ نبی کے نے جب آپ کے پاس ہوازن کے نمائندے مسلمان أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ہو کر آئے اور انہوں نے آپ سے درخواست کی کہ ان حِيْنَ جَاءَهُ وَقَدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ کے مال اور قیدی انہیں واپس کر دیں۔ آپ نے ان سے فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فرمایا: میرے ساتھ وہ لوگ ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ: مَعِي مَنْ تَرَوْنَ اور مجھے سب سے پیاری بات وہ ہے جو ات وہ ہے جو کی ہو۔ اس سچی اس وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ لئے دو باتوں میں سے ایک بات جو بہتر ہو پسند کرلو۔ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ قیدیوں کو یا مال کو اور میں نے اسی لئے تقسیم میں دیر کی صلى الله وَإِمَّا الْمَالَ - وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ تھی۔ اور نبی ﷺ اور نبی ﷺ جب طائف سے لوٹے تھے تو دس سے کچھ اوپر راتیں ان کا انتظار کرتے رہے۔ جب وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى الله انہیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ نبی ہو گیا کہ نبی ﷺ انہیں واپس انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِيْنَ قَفَلَ کرنے کے نہیں مگر دو چیزوں : انگر دو چیزوں میں سے ایک چیز تو انہوں مِنَ الطَّائِفِ - فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ نے کہا: ہم اپنے قیدیوں کو ہی لینا پسند کرتے ہیں۔ اس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍ إِلَيْهِمْ پر آپ مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف