صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 653
صحيح البخاري - جلد ۴ ۶۵۳ ۱ ۵ - كتاب الهبة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابِ وَعَنْ پینے کی کوئی چیز لائی گئی اور آپ کے دائیں طرف ایک يَمِينِهِ غُلَامٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَشْيَاتٌ۔ فَقَالَ لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑی عمر والے۔ آپ نے اس لِلْغُلَامِ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ؟ لڑکے سے فرمایا: کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں ان فَقَالَ الْغُلَامُ: لَا وَاللَّهِ لَا أُوْثِرُ بِنَصِيبي کو دے دوں؟ تو اس لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم ! آپ مِنْكَ أَحَدًا فَتَلَّهُ فِي يَدِهِ۔ سے جو حصہ مجھے ملے ، میں تو اسے کسی کو بھی نہ دوں گا۔ اس پر آپ نے وہ پیالہ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ اطرافه: ٢٣٥١، ٢٣٦٦، ٢٤٥١، ٢٦٠٢، ٥٦٢٠۔ ٢٦٠٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ :۲۶۰۶: عبداللہ بن عثمان بن جبلہ نے ہم سے ابْنِ جَبَلَةَ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ بیان کیا ۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ عَنْ سَلَمَةَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ عَنْ انہوں نے شعبہ سے،شعبہ نے سلمہ سے روایت کی کہ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ انہوں نے کہا، میں نے ابوسلمہ سے سنا۔ انہوں نے لله لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کسی شخص کا کچھ وَسَلَّمَ دَيْنٌ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ: قرضہ تھا۔ (اس نے سختی سے مطالبہ کیا۔ آپ کے صحابہ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا۔ اس کو مارنے کے لئے لپکے۔ آپ نے فرمایا: اسے وَقَالَ: اشْتَرُوْا لَهُ سِنَّا فَأَعْطُوْهَا إِيَّاهُ چھوڑ دو کیونکہ حقدار کہتا ہی ہے اور فرمایا: اس کے لئے فَقَالُوْا : إِنَّا لَا نَجِدُ مِنَّا إِلَّا سِنَّا هِيَ ایک سال کا اُونٹ خرید لو اور وہ اسے دے دو۔ صحابہ أَفْضَلُ مِنْ سِنِهِ۔ قَالَ : فَاشْتَرُوهَا نے کہا: ہمیں یکسالہ اُونٹ نہیں ملتا، صرف وہ اُونٹ فَأَعْطُوهَا إِيَّاهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ ہے جو اس کی عمر سے بڑھ کر ہے۔ آپ نے فرمایا: خرید أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً۔ لو اور وہی اس کو دے دو کیونکہ جو اپنے قرضہ کو اچھی طرح ادا کرتے ہیں وہی تم میں سے اچھے لوگ ہیں۔ اطرافه ۲۳۰۵، ۲۳۰۶، ۲۳۹۰، ۲۳۹۲، ٢۳۹۳، ٢٤٠١، ٢٦٠٩۔ تشريح : الْهَبَةُ الْمَقْبُوضَةُ وَغَيْرُ الْمَقْبُوضَةِ وَالْمَقْسُوْمَةُ وَغَيْرُ الْمَقْسُومَةِ: بعض فقہاء نے یہ فتوی دیا ہے کہ جب تک کسی شئے پر قبضہ نہ ہو جائے وہ ہبہ نہیں کی جاسکتی۔ اس باب میں یہی اختلاف مد نظر ہے۔ مقبوض و غیر مقبوض اور مقسوم و غیر مق بر مقبوض اور مقسوم و غیر مقسوم کا ہبہ جمہور کے نزدیک جائز ہے اور جو اختلاف امام ابو حنیفہ