صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 648
صحيح البخاري - جلدم ۶۴۸ ۱ ۵ - كتاب الهبة فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ۔درمیان کوئی گھر والے ہم سے بڑھ کر محتاج نہیں۔آپ نے فرمایا: جاؤ اپنے گھر والوں کو ہی کھلاؤ۔اطرافه: ۱۹۳۶، ۱۹۳۷، ۵۳۶۸، ٦۰۸۷، ٦١٦٤، ۶۷۰۹، ٦٧۱۰، ٦٧١١، ٦٨٢١۔تشریح: إِذَا وَهَبَ هِبَةَ فَقَبَضَهَا الْآخَرُ وَلَمْ يَقُل قَبلْتُ : ہبہ کو بیچ کی طرح ایک عقد قرار دیا گیا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ ہبہ بلاعوض ہے۔فقہاء نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ آیا اس میں ایجاب و قبول ضروری ہے۔جسے ہبہ دیا جائے وہ کہے کہ میں نے یہ ہبہ قبول کر لیا ہے۔اکثر فقہاء کے نزدیک یہ ایسا عقد نہیں کہ ایجاب وقبول کا محتاج ہو ، موہوب لہ کا قبضہ کافی ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بیچ اور اُن اشیاء کی طرح جن میں انتقال ملکیت ہوتا ہے، ہبہ میں بھی ایجاب و قبول ضروری ہے۔ابن الصباغ کی رائے میں مطلق ہبہ کے لئے ایجاب وقبول کی ضرورت نہیں۔مگر احناف اسے ضروری سمجھتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۷۴، ۲۷۵ ) (عمدۃ القاری جز ۱۳۰ صفحه ۱۵۹) مذکورہ بالا فقہی اختلاف کے پیش نظر باب ۲۰ قائم کیا گیا ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوانِ باب شرطیہ قائم کر کے اس کا جواب حذف کر دیا ہے اور اس تعلق میں جو روایت نقل کی ہے اس کا تعلق صدقہ سے ہے۔امام ابن حجر کی رائے ہے کہ امام بخاری کا رجحان اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ ایجاب و قبول کی ضرورت نہیں اور ان کے نزدیک صدقہ اور ہبہ میں فرق نہیں۔( فتح الباری جزء ۵ صفر ۲۷۵،۲۷۴) بَاب ۲۱ : إِذَا وَهَبَ دَيْنًا عَلَى رَجُلٍ اگر کوئی شخص کسی شخص کو قرض ہیہ کر دے قَالَ شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ هُوَ جَائِزٌ شعبہ نے حکم سے روایت کرتے ہوئے کہا: یہ جائز وَوَهَبَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ عَلَيْهِمَا ہے۔اور حضرت حسن بن علی علیہما السلام نے ایک شخص السَّلَامُ لِرَجُلٍ دَيْنَهُ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى کو قرضہ معاف کر دیا۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ حَقٌّ جس کے ذمہ کسی کا کوئی حق ہو تو چاہیے کہ وہ اس کو دیدے یا اس سے معاف کرا کے آزاد ہو جائے۔فَلْيُعْطِهِ أَوْ لِيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ فَقَالَ جَابِرٌ حضرت جابر نے کہا: میرے والد شہید ہو گئے جبکہ ان قُتِلَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى کے ذمہ کچھ قرض تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُرَمَاءَهُ أَنْ يُقْبَلُوْا ثَمَرَ کے قرض خواہوں سے چاہا کہ وہ میرے باغ کا میوہ حَائِطِي وَيُحَدِّلُوا أَبِي۔قبول کر لیں اور میرے باپ کو قرضہ سے آزاد کر دیں۔( تو انہوں نے نہ مانا۔)