صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 649
صحيح البخاری جلدم ۶۴۹ ۱ ۵ - كتاب الهبة ٢٦٠١: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا ۲۶۰۱: ہم سے عبدان نے بیان کیا۔(انہوں نے کہا :) عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ وَقَالَ اللَّيْثُ : ہمیں عبداللہ نے بتایا۔(انہوں نے کہا: ) ہمیں یونس حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ نے خبر دی۔اور لیٹ ( بن سعد ) نے کہا: مجھ سے یونس نے بیان کیا کہ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے کہا: مجھے ابن کعب بن مالک نے بتایا۔ان کو حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ ان کے باپ حضرت عبد اللہ جنگ اُحد میں شہید ہو گئے تو ان کے حَدَّثَنِي ابْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ جَابِرَ ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا فَاشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ فَأَتَيْتُ قرض خواہوں نے اپنے قرضوں کا سختی سے مطالبہ شروع رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کر دیا۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر فَكَلَّمْتُهُ فَسَأَلَهُمْ أَنْ يَقْبَلُوْا ثَمَرَحَائِطِي ہوا اور میں نے ساری بات آپ سے عرض کی۔آپ وَيُحَلَّلُوا أَبِي فَأَبَوْا فَلَمْ يُعْطِهِمْ نے قرض خواہوں سے کہا کہ وہ میرے باغ کا میوہ قبول { رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کرلیں اور میرے باپ کو قرضہ سے آزاد کر دیں۔حَائِطِي } وَلَمْ يَكْسِرْهُ لَهُمْ وَلَكِنْ انہوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا۔اس پر رسول اللہ قَالَ : سَأَغْدُو عَلَيْكَ إِنْ شَاءَ اللهُ۔فَغَدَا ﷺ نے اُن کو میرا باغ * نہ دیا اور نہ ان کے لئے عَلَيْنَا حِيْنَ أَصْبَحَ فَطَافَ فِي النَّخْل ميوه تڑوایا بلکہ فرمایا میں کل صبح انشاء اللہ تمہارے فَدَعَا فِي ثَمَرِهِ بِالْبَرَكَةِ فَجَدَدْتُهَا پاس آؤں گا۔چنانچہ جب صبح ہوئی تو آپ ہمارے پاس آئے اور کھجور کے درختوں میں ادھر اُدھر پھرے فَقَضَيْتُهُمْ حُقُوْقَهُمْ وَبَقِيَ لَنَا مِنْ اور ان کے لئے پھلوں میں برکت کی دعا مانگی۔پھر میں ثَمَرِهَا بَقِيَّةٌ۔ثُمَّ جِئْتُ رَسُوْلَ اللهِ نے ان خوشوں کو کاٹا اور ان قرض خواہوں کو ان کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ حقوق ادا کر دیئے اور ان کھجوروں کے پھلوں سے فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ تھوڑی سی کھجوریں ہمارے لئے بھی بچ رہیں۔پھر میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ : اسْمَعْ - رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔آپ بیٹھے ہوئے تھے۔وَهُوَ جَالِسٌ يَا عُمَرُ فَقَالَ : أَلَّا میں نے آپ سے واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ علی - الفاظ رَسُولُ الله الله حائطی فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۵ حاشیہ صفحہ ۲۷۵)