صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 647 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 647

صحيح البخاری جلد ۴ ۶۴۷ ۱ ۵ - كتاب الهبة ہے نہ حقیقی قبضہ ۔ مزید دیکھئے زیر باب ۲۳۔ فقہاء نے صورت استفادہ کی رو سے ہبہ کی دو بڑی قسمیں قرار دی ہیں: ہبہ عین اور ہبہ منفعت یعنی معین شے کا ہبہ کرنا یا صرف حاصلات سے استفادہ کا ہبہ۔ ہر قسم کے مطابق قبضہ کی صورت بھی جدا ہوگی۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفح ۲۷۴) (بداية المجتهد، كتاب الهبات، القول في أنواع الهبات، جزء ثانی صفحه ۲۴۸) بَاب ۲۰ : إِذَا وَهَبَ هِبَةً فَقَبَضَهَا الْآخَرُ وَلَمْ يَقُلْ: قَبِلْتُ اگر کوئی ہبہ کرے اور دوسرا اُس کو قبضہ میں لے لے اور یہ نہ کہے: میں نے اسے قبول کیا ٢٦٠٠: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ۲۶۰۰ محمد بن محبوب نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد مَحْبُوبِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا ( انہوں نے کہا: ) معمر نے ہمیں بتایا۔ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ انہوں نے زہری سے، زہری نے حمید بن عبدالرحمن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ سے حمید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا نے کہا: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الله پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہلاک ہو گیا۔ آپ نے پوچھا: کیوں؟ اُس نے کہا: میں رمضان میں اپنی بیوی هَلَكْتُ فَقَالَ : وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: وَقَعْتُ سے مباشرت کر بیٹھا۔ آپ نے فرمایا: ایک گردن بِأَهْلِي فِي رَمَضَانَ۔ قَالَ: اَتَجِدُ رَقَبَةً؟ آزاد کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُوْمَ آپ نے فرمایا: کیا دوماہ لگا تار روزے رکھنے کی شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ قَالَ: لَا ، قَالَ : طاقت ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: آیا فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے تھے کہ اتنے میں ایک انصاری قَالَ: لَا قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِّن شخص بھجور کا الْأَنْصَارِ بِعَرَقِ وَالْعَرَقُ و کالا یا او عرق یعنی یہ نوکر پندرہ صاع کا ہوتا ہے۔ اس میں کھجوریں تھیں۔ آپ نے تَمْرٌ فَقَالَ: اذْهَبْ بِهَذَا فَتَصَدَّقَ بِهِ۔ فرمایا: اسے لے جاؤ اور اسے صدق او اور اسے صدقہ میں دے دو۔ اس قَالَ: عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا يَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ نے پوچھا: یا رسوا چھا: یا رسول اللہ ! جو ہم سے زیادہ محتاج ہو اُس وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَا بَتَيْهَا کو دوں ؟ اُسی ذات کی قسم جس نے آپ کو سچائی کے أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا ۔ ثُمَّ قَالَ : اذْهَبْ ساتھ بھیجا ہے ، مدینہ کے دونوں پتھر پلے کناروں کے