صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 646
صحيح البخاری جلدم ۶۴۶ ۵۱ - كتاب الهبة مہیبہ ساقط ہوگا۔جہاں تک وعدہ ہبہ کا تعلق ہے؟ امام ابو حنیفہ، امام شافعی ، امام مالک اور امام ثوری کا یہ مذہب ہے کہ اگر قبضہ نہ ہو تو اس کے ورثاء پر وعدہ پورا کرنا لازم نہیں۔(بداية المجتهد، كتاب الهبات، شروطها، جزء ثانی صفحه ۲۴۷) یه وه اختلاف ہے جس کے پیش نظر باب ۱۹ قائم کیا گیا ہے اور اس تعلق میں جو حدیث نقل کی گئی ہے اس سے ظاہر ہے کہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا میلان اس طرف ہے کہ قبضہ شرط نہیں۔ہبہ کا وعدہ بیچ قرار پائے گا اور وہ پورا کیا جائے گا۔اس تعلق میں کتاب البیوع باب ۴۷ بھی دیکھئے۔وَقَالَ عَبَيْدَةُ إِنْ مَّاتَا : عنوان باب ( نمبر ۱۸) میں عبیدہ بن عمر وسلمانی اور حسن بصری کے حوالے دیئے گئے ہیں۔یعنی واہب اور موہوب لہ دونوں مر جائیں اور ہدیہ ( یا ہبہ) اموال مملوکہ سے الگ کر دیا گیا ہو تو وارث اس کا مستحق ہوگا۔جمہور کے نزدیک ہبہ پانے والے کا وارث اس وقت مستحق ہوگا جب اس کو یا اس کے وکیل کو قبضہ حاصل ہو چکا ہو۔فتح الباری جزء ۵ صفحه ۲۷۳ شرح باب ۱۸) قَالَ الْحَسَنُ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبلُ : یعنی حسن بصری کا یہ فتویٰ وہی ہے جو امام مالک کا ہے یعنی دونوں میں سے اگر کوئی فوت ہو جائے تو ہد یہ یا ہبہ بہر حال وارثوں کا ہے۔امام احمد بن حنبل اور اسحق بن راہویہ نے اس میں ایک فرق ملحوظ رکھا ہے کہ وکیل اگر ہدیہ دینے والے کا ہو اور جسے ہدیہ بھیجا گیا ہے وہ فوت ہو گیا ہو تو ہدیہ دینے والے کو کوٹے گا، اور اس فرق کی تائید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے تمسک کیا ہے کہ آپ نے نجاشی کو ایک جوڑا اور مشک بطور تحفہ بھیجا اور فرمایا: اگر نجاشی کی موت کی وجہ سے یہ واپس ہو تو یہ تمہارا ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مشار الیہ روایت طبرانی وغیرہ نے نقل کی ہے۔جید فتح الباری شرح باب ۱۸ جزء ۵ صفحه ۲۷۳) (عمدة القاری شرح باب ۱۸ جز ۱۳۰ صفحه ۱۵۷) مذکورہ بالا حوالوں سے اس فقہی اختلاف کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، جس کی وجہ سے یہ باب قائم کرنا پڑا۔امام ابن حجر نے حضرت جابر کی مذکورہ بالا روایت سے استدلال کے بارے میں کہا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ ہے کہ ہدیہ جو کسی وجہ سے نہیں دیا جا سکا۔وہ بصورت وعدہ قائم رہے گا اور بموجب ارشاد باری تعالیٰ پورا کرنا ضروری ہے۔اَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا۔(بنی اسرائیل: ۳۵) طبرانی کی روایت امام بخاری کے نزدیک مستند نہیں۔فتح الباری شرح باب ۱۸ جز ء ۵ صفحه ۲۷۳) قبضہ سے مراد کیا ہے؟ آیا شئے موہوب کا اپنی تحویل میں لے لینا یا مطلق عقد ہبہ سے قبضہ حاصل ہو جاتا ہے۔جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قبضہ اس وقت صحیح متصور ہوگا جب ہاتھ میں آجائے۔ابونور اور داؤد عقد میبہ کو کافی سمجھتے ہیں۔امام احمد نے نئے معین اور شئے غیر معین میں فرق کیا ہے کہ اول الذکر میں قبضہ کے بغیر ہی ہبہ صحیح قرار پائے گا۔متاع سے مراد ایسی جائداد جس کا کوئی حصہ متعین نہ ہو جیسے مشترکہ جائداد عنوان باب كَيْفَ يُقْبَضُ سے مراد صرف کیفیت تخلیه و دست برداری (مسند احمد بن حنبل، مسند القبائل، حديث ام كلثوم بنت عقبة ام حميد بن عبد الرحمن، جزء ۶ صفر ۴۰۴) (المعجم الكبير للطبراني، مسند النساء، باب من يعرف من النساء بالكنى ذكر أم كلثوم، جزء ۲۵ صفحه ۸۱)