صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 645
صحيح البخاری جلدم ۶۴۵ باب ۱۹ : كَيْفَ يُقْبَضُ الْعَبْدُ وَالْمَتَاعُ غلام اور سامان پر کس طرح قبضہ کیا جائے؟ ۱ ۵ - كتاب الهبة وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كُنْتُ عَلَى بَكْر اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا کہ میں ایک منہ صَعْبِ فَاشْتَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ زور اونٹ پر سوار تھا۔تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وَسَلَّمَ وَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ۔خریدلیا اور فرمایا: عبداللہ یہ ( اونٹ ) تمہارا ہی ہے۔٢٥٩٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۲۵۹۹: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَن ابْن أَبِي مُلَيْكَةَ عَن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی الْمِسْوَر بْن مَحْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کچھ قبا ئیں تقسیم أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ کیں اور مخرمہ کو ان میں سے کوئی قبانہ دی۔مخرمہ نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ (اپنے لڑکے کو ) کہا: بیٹا! تم میرے ساتھ رسول اللہ مِنْهَا شَيْئًا فَقَالَ مَخْرَمَةُ : يَا بُنَيَّ انْطَلِقُ عﷺ کے پاس چلو۔میں ان کے ساتھ چلا گیا تو انہوں بِنَا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: اندر جاؤ اور آنحضرت ﷺ سے کہو کہ میں آپ کو بلاتا ہوں۔(مسور) کہتے تھے: میں نے آپ سے فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَقَالَ : ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي کہا کہ میرے والد آپ کو بلاتے ہیں۔آپ ان کے قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ پاس باہر آئے اور آپ کے کندھوں پر ان میں سے قَبَاءً مِنْهَا فَقَالَ: خَبَأْنَا هَذَا لَكَ قَالَ: ایک قبا تھی۔آپ نے فرمایا: میں نے تمہارے لئے یہ چھپارکھی تھی۔(سور) کہتے تھے: میرے والد نے فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ: رَضِيَ مَخْرَمَهُ۔اسے دیکھا اور کہا مخرمہ اب تو خوش ہو گیا۔اطرافه: ٢٦٥٧، ۳۱۲۷، ٥۸۰۰، ٥٨٦٢، ٦١٣٢۔تشریح: كَيْفَ يُقْبَضُ الْعَبُدُ وَالْمَتَاعُ : آیا صحت بہہ کے لئے قبضہ شرط ہے یا نہیں۔اکثر فقہاء اور تابعین کے نزدیک قبضہ شرط صحت ہے۔یہی مذہب امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا ہے۔مؤخر الذکر امام نے ماپ تول کی اشیاء میں تو قبضہ کی شرط عائد کی ہے مگر ان کے نزدیک اشیائے عین میں قبضہ کی شرط نہیں۔امام مالک نے ہبہ کا عقد بیع پر قیاس کر کے قبضہ سے قبل ملکیت ہی کو صیح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہبہ کرنے والے اور اس کے وارثوں کے انکار پر بذریعہ دارالقضاء اس پر قبضہ حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن اگر واہب قبضہ دینے سے پہلے فوت ہو جائے تو