صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 644
صحيح البخاري - جلد ۴ بهام ۶۴ ۱ ۵ - كتاب الهبة بَاب ۱۸ : إِذَا وَهَبَ هِبَةً أَوْ وَعَدَ ثُمَّ مَاتَ قَبْلَ أَنْ تَصِلَ إِلَيْهِ اگر کوئی ہبہ کرے یا ہبہ کا وعدہ کرے پھر ہبہ کی تکمیل سے پہلے مر جائے وَقَالَ عَبِيْدَةُ : إِنْ مَّاتَا وَكَانَتْ اور عبیدہ نے کہا: اگر وہ دونوں مر جائیں اور ہدایا کو الگ فُصِلَتِ الْهَدِيَّةُ وَالْمُهْدَى لَهُ حَيٌّ فَهْيَ کر دیا گیا ہو اور جس کو ہدیہ دیا جاتا ہے وہ زندہ ہو ( اور پھر وہ مر جائے ) تو وہ ہدیہ اس کے وارثوں کا حق ہوگا لِوَرَثَتِهِ وَإِن لَّمْ تَكُنْ فُصِلَتْ فَهيَ اور اگر بد یہ ال نہیں کیا گیا تو وہ اس شخص کے وارثوں ہدیہ لِوَرَثَةِ الَّذِي أَهْدَى وَقَالَ الْحَسَنُ كا حق ہوگا جس نے ہدیہ دیا۔ اور امام حسن (بصری) أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلُ فَهْيَ لِوَرَثَةِ الْمُهْدَى لَهُ کہتے ہیں کہ ہدیہ دینے والا اور جس کو ہدیہ دیا گیا ہو، إِذَا قَبَضَهَا الرَّسُوْلُ۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی مر جائے تو ہدیہ موہوب لۂ کے وارثوں کو ہی ملے گا بشرطیکہ اس کے ایلچی نے وہ ہد یہ قبضہ میں لے لیا ہو۔ ٢٥٩٨ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۵۹۸ علی بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ (بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا کہ ( محمد ) بن منکدر سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ نے ہمیں بتایا ( انہوں نے کہا: ) میں نے حضرت جابر لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ ﷺ سے سنا، کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا سے فرمایا: اگر بحرین کا مال آیا تو میں تمہیں اس طرح (ثَلَاثًا) فَلَمْ يَقْدَمْ حَتَّى تُوُفِّيَ النَّبِيُّ دوں گا ۔ تین بار فرمایا۔ تو وہ مال اس وقت آیا جب نبی ابو بکر نے صلى الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ أَبُو بَكْرِ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تھے اور حضرت ابو بک ابوبکر مُنَادِيًا فَنَادَى: مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ ایک منادی کو حکم دیا تو اس نے منادی کی کہ نبی ہے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ کے ذمہ جس کا کوئی وعدہ یا قرضہ ہو تو چاہیے کہ وہ فَلْيَأْتِنَا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا۔ تو حضرت ابو بکر نے مجھے تین لپ بھر کر دیئے۔ وَعَدَنِي۔ فَحَثَى لِي ثَلَاثًا۔ اطرافه ٢٢٩٦ ، ٢٦٨٣ ، ٣١٣٧، ٣١٦٤، ٤٣٨۔